امریکا نے پولینڈ میں 4 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا منصوبہ منسوخ کردیا

جمعہ 15 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا نے پولینڈ میں اپنے 4 ہزار فوجیوں کی مجوزہ تعیناتی منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن یورپ میں اپنی افواج کی ازسرنو تنظیم کر رہا ہے اور حال ہی میں جرمنی سے بھی ہزاروں فوجی نکالنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

امریکی فوج کے قائم مقام چیف آف اسٹاف، جنرل کرسٹوفر لا نیو نے کانگریس میں سماعت کے دوران تصدیق کی کہ یورپی کمانڈ کو افواج میں کمی کی ہدایات موصول ہوچکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیکنڈ آرمرڈ بریگیڈ کی تعیناتی کو روکنا موجودہ حالات میں سب سے زیادہ منطقی فیصلہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا گرین لینڈ حاصل کرنے کے لیے کون سے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے؟

سیکریٹری آف دی آرمی ڈین ڈرسکول کے مطابق اس یونٹ کی تعیناتی چند روز قبل ہی منسوخ کی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل پینٹاگون جرمنی سے بھی 5 ہزار فوجیوں کی واپسی کا اعلان کر چکا ہے۔ یہ پیشرفت صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کی جنگ پر جاری تنازع کے پس منظر میں دیکھی جارہی ہے۔

پولینڈ کے وزیرِ دفاع نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر جرمنی سے نکالے گئے فوجی پولینڈ بھیجے جاتے ہیں تو اس سے سیکورٹی کی ضمانتوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ تاہم امریکی صدر کا موقف واضح ہے کہ وہ یورپی اتحادیوں پر دفاعی ذمہ داریوں کا بوجھ بانٹنے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: صدر وینزویلا مادورو کے بعد ٹرمپ کا اگلا عسکری قدم کیا ہوگا؟

نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ امریکا یورپ میں اپنی فوجی موجودگی کے طریقہ کار کو تبدیل کر رہا ہے، لیکن اس سے اتحاد کی دفاعی صلاحیت متاثر نہیں ہوگی۔ کینیڈا اور جرمنی پہلے ہی مشرقی محاذ پر اپنی موجودگی بڑھا رہے ہیں جو مجموعی طور پر نیٹو کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہورہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟