امریکا نے پولینڈ میں اپنے 4 ہزار فوجیوں کی مجوزہ تعیناتی منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن یورپ میں اپنی افواج کی ازسرنو تنظیم کر رہا ہے اور حال ہی میں جرمنی سے بھی ہزاروں فوجی نکالنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
امریکی فوج کے قائم مقام چیف آف اسٹاف، جنرل کرسٹوفر لا نیو نے کانگریس میں سماعت کے دوران تصدیق کی کہ یورپی کمانڈ کو افواج میں کمی کی ہدایات موصول ہوچکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیکنڈ آرمرڈ بریگیڈ کی تعیناتی کو روکنا موجودہ حالات میں سب سے زیادہ منطقی فیصلہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا گرین لینڈ حاصل کرنے کے لیے کون سے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے؟
سیکریٹری آف دی آرمی ڈین ڈرسکول کے مطابق اس یونٹ کی تعیناتی چند روز قبل ہی منسوخ کی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل پینٹاگون جرمنی سے بھی 5 ہزار فوجیوں کی واپسی کا اعلان کر چکا ہے۔ یہ پیشرفت صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کی جنگ پر جاری تنازع کے پس منظر میں دیکھی جارہی ہے۔
پولینڈ کے وزیرِ دفاع نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر جرمنی سے نکالے گئے فوجی پولینڈ بھیجے جاتے ہیں تو اس سے سیکورٹی کی ضمانتوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ تاہم امریکی صدر کا موقف واضح ہے کہ وہ یورپی اتحادیوں پر دفاعی ذمہ داریوں کا بوجھ بانٹنے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صدر وینزویلا مادورو کے بعد ٹرمپ کا اگلا عسکری قدم کیا ہوگا؟
نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ امریکا یورپ میں اپنی فوجی موجودگی کے طریقہ کار کو تبدیل کر رہا ہے، لیکن اس سے اتحاد کی دفاعی صلاحیت متاثر نہیں ہوگی۔ کینیڈا اور جرمنی پہلے ہی مشرقی محاذ پر اپنی موجودگی بڑھا رہے ہیں جو مجموعی طور پر نیٹو کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہورہی ہے۔














