ڈاکٹر انعم فاطمہ کو سول ایوارڈ ملنے پر پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ڈاکٹر انعم فاطمہ کو مسلسل ٹرول کیا جارہا ہے۔
ڈاکٹر انعم فاطمہ پر تنقید سے پی ٹی آئی کا خواتین کے احترام کا بیانیہ صرف ان خواتین تک محدود نظر آتا ہے جو ان کے نظریے کی حامی ہیں۔ مدینہ منورہ میں 2022 میں مریم اورنگزیب کو مسجدِ نبوی میں ہراساں کرنے سے لے کر 2026 میں اسلام آباد میں ڈاکٹر انعم فاطمہ کی ڈیجیٹل لنچنگ تک، ایک ہی طرزِ عمل مسلسل سامنے آرہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معذرت کرلینے والوں کو ایک بار پھر خط کے ذریعے سول ایوارڈ لینے کی ترغیب
پی ٹی آئی کی جانب سے یہ طرز عمل اس بات کی عکاسی ہے کہ ریاست کی خدمت کرنے والی خواتین افسران، وزرا اور صحافی اگر پی ٹی آئی کے سیاسی بیانیے سے ہم آہنگ نہ ہوں، تو انہیں منظم طریقے سے گالی گلوچ اور تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے، پی ٹی آئی ایک طرف خواتین کی بااختیاری کا دعویٰ کرتی ہے، تو دوسری طرف اپنی ٹرولنگ بریگیڈ کو مخالف خواتین کے خلاف کھڑا کردیتی ہے۔

پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے مریم اورنگزیب کو مسجدِ نبوی میں عبادت کے دوران ہراساں کیا گیا، جبکہ ڈاکٹر انعم فاطمہ کو محض ایک ایوارڈ وصول کرنے پر آن لائن ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ مسئلہ صرف سیاست کا نہیں بلکہ آزاد منش اور باصلاحیت خواتین کے خلاف عدم برداشت کا ہے، جو اب ایک مستقل سیاسی نمونہ بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اکادمی ادبیات پاکستان کے ادبی ایوارڈز 2024 کا اعلان، کمالِ فن ایوارڈ عطا الحق قاسمی کو مل گیا
کسی بھی قابل خاتون کو، جو پی ٹی آئی کے بیانیے سے باہر ہو، تضحیک کے لیے ‘آسان ہدف’ سمجھ لیا جاتا ہے۔ مدینہ میں جسمانی طور پر ہراساں کرنے سے لے کر اسلام آباد میں ڈیجیٹل بدتمیزی تک، یہ زہریلا رویہ اب ایک پہچان بن چکا ہے۔ خواتین کے احترام کا اصل امتحان ان خواتین کا احترام کرنا ہے جو آپ سے مختلف سیاسی رائے رکھتی ہوں۔

تحریک انصاف 2022 میں مسجدِ نبوی کے واقعے کے وقت بھی اس امتحان میں ناکام رہی تھی اور اب 2026 میں ڈاکٹر انعم فاطمہ پر حملوں کے ذریعے وہی تاریخ دہرائی جارہی ہے۔














