چیک ریپبلک کی پولیس نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران تیرہویں صدی کی مشہور مذہبی شخصیت ’سینٹ زیڈیسلاوا‘ وہ کھوپڑی برآمد کرلی ہے جو رواں ہفتے ایک چرچ سے چوری کرلی گئی تھی۔ پولیس نے اس عجیب و غریب چوری کے الزام میں ایک 35 سالہ شخص کو گرفتار کیا ہے جس نے تبرک کو دریا برد کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کوٹ ڈیجی قلعہ سے نوادرات کی چوری، توپوں کے پرزے غائب
پولیس حکام کے مطابق ملزم نے ‘جابلونے وی پوجیشتیدی’ نامی قصبے میں واقع تاریخی باسیلیکا (چرچ) سے مقدسہ کی کھوپڑی چوری کی تھی۔ ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے کھوپڑی کو چرچ کے شیشے کے شوکیس سے نکالا اور اسے کنکریٹ کے ایک بلاک میں چھپا دیا تھا۔
پولیس چیف پیٹر رائٹ کا کہنا ہے کہ ملزم اس مقدس تبرک کی عوامی نمائش کا مخالف تھا اور اسے ’الوداع‘ کہنے کے لیے دریا میں پھینکنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اگر پولیس ملزم کو وقت پر گرفتار نہ کرتی تو یہ تاریخی تبرک ہمیشہ کے لیے ضائع ہوجاتا۔

سینٹ زیڈیسلاوا 1220 کے قریب پیدا ہوئیں اور محض 30 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ وہ تیرہویں صدی کی ایک نیک سیرت خاتون تھیں جو اپنی سخاوت اور فلاحی کاموں کی وجہ سے پورے ملک میں مشہور تھیں۔
ان کی خدمات کے اعتراف میں 1995 میں پوپ جان پال دوم نے انہیں باقاعدہ ‘مقدسہ’ (سینٹ) کا درجہ دیا تھا۔ ان کی باقیات کو ملک کے اہم مذہبی اور تاریخی اثاثوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سکندر اعظم کے مجسمہ سمیت سیکڑوں چوری شدہ نوادرات برآمد
تفتیشی افسران کے مطابق یہ چوری اس وقت ہوئی جب چرچ میں عبادت (ماس) شروع ہونے سے تھوڑی دیر قبل سیکیورٹی الارم بند کیا گیا تھا۔ ملزم نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شیشہ توڑ کر کھوپڑی نکالی اور فرار ہو گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کا پہلے سے کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے، تاہم مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور تاریخی نوادرات کی چوری کے جرم میں اسے 8 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ فی الحال ملزم کو عدالتی تحویل میں رکھا گیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔














