جماعتِ اسلامی کا پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ لیوی کے خلاف آئینی عدالت سے رجوع

پیر 18 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے ملک بھر میں نافذ پیٹرولیم لیوی اور نئی متعارف کردہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کیخلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔

ایڈووکیٹ عمران شفیق کے ذریعے دائر کی گئی اس آئینی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی اب ایک محدود ریگولیٹری سرچارج نہیں رہی۔

درخواست گزار کے مطابق پیٹرولیم لیوی عملی طور پر ایک ٹیکس کی شکل اختیار کر چکی ہے، جسے پارلیمنٹ کے بجائے مسلسل ایگزیکٹو نوٹیفکیشنز اور ایس آر اوز کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا بجٹ میں اضافی محصولات اور پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا فیصلہ، عالمی مالیاتی ادارے سے معاہدہ

درخواست میں کہا گیا ہے کہ فائنانس ایکٹ 2025 کے تحت حکومت نے پیٹرولیم لیوی پر موجود قانونی حد ختم کر دی ہے، جبکہ ماضی میں اس کی حتمی مقدار پارلیمان طے کرتی تھی۔

درخواست کے مطابق ففتھ شیڈول کے خاتمے کے بعد حکومت کو غیر محدود مالیاتی اختیارات حاصل ہو گئے ہیں، جوآئین، پارلیمانی بالادستی، وفاقی نظام اور بنیادی حقوق کے منافی ہیں۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی اس وقت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی تقریباً 117.41 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ یہ پیٹرول کی بنیادی ایکس ریفائنری قیمت کا تقریباً 42 سے 43 فیصد بنتی ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت نے گزشتہ 9 ماہ میں پیٹرولیم لیوی کی مد 1205 ارب روپے وصول کیے

مزید کہا گیا ہے کہ لیوی کے علاوہ بھی مختلف ٹیکسز عوام سے وصول کیے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور روزمرہ زندگی کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق مالی سال 26-2025 میں صرف پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1.47 ٹریلین روپے وصول کیے جانے کا تخمینہ ہے، جو وفاقی بجٹ کا تقریباً 8.3 فیصد بنتا ہے، جبکہ اب تک مجموعی وصولیاں 6.3 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکی ہیں۔

مزید پڑھیں: وفاقی کابینہ کا اہم فیصلہ، پیٹرولیم لیوی کا اختیار پیٹرولیم ڈویژن کو منتقل

نئی متعارف کردہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کو بھی چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگرچہ حکومت نے اسے ماحولیاتی تحفظ کے نام پر نافذ کیا ہے، تاہم اس کے لیے نہ کوئی کلائمیٹ فنڈ بنایا گیا ہے اور نہ ہی شفاف احتسابی نظام موجود ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ یہ تمام اقدامات آئین کی روح، صوبائی خودمختاری، مالیاتی نظم اور بنیادی حقوق کے منافی ہیں، جبکہ عوام پر بھاری مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی راہ پر گامزن، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کردیے، سڑکوں پر آنا مسائل کا حل نہیں، طارق فضل چوہدری

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے