بھارت کے علاقے گریٹر نوئیڈا میں جہیز کے مبینہ تنازع پر 25 سالہ خاتون کی پراسرار موت نے ایک بار پھر معاشرتی بے حسی کو بے نقاب کر دیا اور ثابت کیا کہ بھارت عورتوں کے لیے جہنم بن چکا ہے۔ مقتولہ کے اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ شادی کے بعد سے اسے اضافی جہیز کے لیے ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا، جبکہ پولیس نے شوہر اور سسر کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب گریٹر نوئیڈا کے جلپورہ علاقے میں پیش آیا، جہاں خاتون اپنے سسرال کے گھر کی چھت سے گرنے کے باعث ہلاک ہوئی۔ تاہم اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اسے تشدد کے بعد چھت سے نیچے پھینکا گیا۔
مقتولہ دیپیکا نگر کے والد سنجے نگر نے الزام عائد کیا کہ شادی کے وقت انہوں نے 11 لاکھ روپے نقد، تقریباً 50 لاکھ روپے مالیت کا سونا، فرنیچر اور ایک اسکارپیو گاڑی دی تھی، لیکن اس کے باوجود سسرال والے مزید 51 لاکھ روپے اور فورچیونر گاڑی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے جہیز کم لانے پر خاتون کو کم سن بیٹے کے سامنے زندہ جلا دیا گیا
دیپیکا کے والد نے روتے ہوئے میڈیا سے گفتگو میں کہا، ’ہم نے بیٹی کی شادی پر تقریباً ایک کروڑ روپے خرچ کیے، لیکن چند ماہ بعد ہی اسے ہراساں کرنا شروع کر دیا گیا۔ ہم ہر بار معاملہ سلجھانے کی کوشش کرتے رہے تاکہ اس کا گھر بچ جائے۔‘
اہلِ خانہ کے مطابق دیپیکا نے اتوار کے روز روتے ہوئے فون کیا اور بتایا کہ شوہر اور سسرال والے اسے تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس اطلاع پر والد اور دیگر رشتہ دار اسی شام سسرال پہنچے اور معاملہ حل کرنے کی کوشش کی، تاہم رات گئے اطلاع ملی کہ دیپیکا چھت سے گر کر شدید زخمی ہو گئی ہے۔
سنجے نگر نے خودکشی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی بیٹی کو قتل کیا گیا۔ ان کے مطابق دیپیکا کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات تھے جبکہ اسپتال میں اس کے ناک اور کان سے خون بھی بہہ رہا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے اسے مارا پیٹا گیا اور پھر چھت سے نیچے پھینک دیا گیا۔ یہ خودکشی نہیں بلکہ قتل ہے۔
یہ بھی پڑھیے بھارت میں دل دہلا دینے والا واقعہ، شوہر نے بیوی کو قتل کرکے 2 سالہ بیٹے کو جنگل میں چھوڑ دیا
پولیس نے مقتولہ کے شوہر رتک تنور اور سسر منوج کو گرفتار کر لیا ہے۔ سینٹرل نوئیڈا کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس شیلندر کمار سنگھ کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی تھی اور قانونی کارروائی شروع کر دی گئی۔ خاتون کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی گئی ہے جبکہ رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتولہ کے اہلِ خانہ کی شکایت پر مقدمہ درج کرکے شوہر اور سسر کو حراست میں لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
دیپیکا کے والد نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں بچا۔ گاڑیاں اور جہیز دے کر بھی کیا حاصل ہوا؟ ہماری بیٹی تو چلی گئی۔













