کراچی کی مقامی عدالت نے قتل کے ایک مقدمے میں مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 4 دن کی توسیع کردی ہے۔
پیر کے روز جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیشی کے موقع پر تفتیشی حکام نے ملزمہ سے مزید تفتیش اور ان کے نیٹ ورک کی نشاندہی کے لیے ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ’انمول پنکی کیس: اعلیٰ افسران کی کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے کرلیے گئے
سماعت کے دوران پولیس نے مقدمے کے مدعی محمد شہروز کا بیان زیرِ دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔ عدالت نے پولیس کی یہ استدعا منظور کر لی ہے۔ مدعی مقدمہ کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے 21 مئی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر مدعی مقدمہ کا بیان جوڈیشل کمپلیکس میں ریکارڈ کیا جائے۔ یہ بیان مدعی کے وکیل کی موجودگی میں قلمبند کیا جائے گا۔ عدالت نے اس موقع پر ملزمہ انمول عرف پنکی کو بھی جوڈیشل کمپلیکس میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انمول پنکی کی ایک اور مقدمے میں پیشی، میڈیا سے بات کرنے کی درخواست
ملزمہ انمول نے پولیس پر تشدد اور بدسلوکی کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں مخصوص نام لینے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے۔
جج نے حکام سے استفسار کیا کہ ہفتے کے روز دیے گئے عدالتی حکم کے باوجود اب تک ملزمہ کا طبی معائنہ کیوں نہیں کرایا گیا۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کے پاس ایسی آڈیو ریکارڈنگز موجود ہیں جو منشیات کی سرگرمیوں میں ملزمہ کے ملوث ہونے کا ثبوت ہیں، تاہم انمول نے ان ریکارڈنگز کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ قرار دے کر مسترد کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: ’کوکین کوئین‘ انمول پنکی کو 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا
سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ برآمد شدہ منشیات کو فارنزک کے لیے بھیجنا اور ملزمہ کے گروہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ابھی باقی ہے۔
دوسری جانب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے بھی انمول کی گرفتاری کے لیے قانونی کارروائی شروع کردی ہے اور ایک پرانے مقدمے میں ان کا پولیس ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔
ملزمہ کے وکیل نے ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موکلہ پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ سیاستدانوں اور دیگر اہم شخصیات کے نام لیں۔













