پاکستان بار کونسل کے 8 ارکان نے رول 87 سی میں مجوزہ ترمیم پر شدید اعتراض اٹھاتے ہوئے اپنا تحریری مراسلہ پاکستان بار کونسل کو بھجوا دیا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان بار کونسل کی خارجہ پالیسی اور سفارتی کامیابیوں کی تعریف
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ ترمیم کے تحت بار کونسل کا اجلاس طلب کرنے کے لیے درکار ارکان کی تعداد 5 سے بڑھا کر 10 کی جا رہی ہے، جس کا مقصد اپوزیشن ارکان کو اجلاس ریکوزیشن کرنے سے روکنا ہے۔
اعتراض کرنے والے ارکان کے مطابق یہ ترمیم بذریعہ سرکولیشن لائی گئی، جو بدنیتی پر مبنی اقدام ہے اور اس سے جمہوری عمل متاثر ہوگا۔
ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ صورتحال میں 8 اپوزیشن ارکان اجلاس بلانے کی پوزیشن میں ہیں، لہٰذا قواعد میں تبدیلی مخصوص سیاسی مقاصد کے تحت کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی کا انتخاب
پاکستان بار کونسل کے اپوزیشن ارکان نے رولز کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ مجوزہ ترمیم فوری طور پر واپس لی جائے۔













