پنکی کیس میں معتبر اور بااثر شخصیات کے نام سامنے آسکتے ہیں، آئی جی سندھ

منگل 19 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آئی جی سندھ جاوید اوڈھو نے کہا ہے کہ ہائی پروفائل ‘پنکی کیس’ کی تحقیقات میں کئی معتبر اور بااثر شخصیات کے نام سامنے آسکتے ہیں۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کراچی چیمبر آف کامرس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ منشیات نیٹ ورک کی سرغنہ انمول عرف پنکی کے خلاف تحقیقات کو مکمل شفاف بنایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: منشیات فروش انمول پنکی کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 4 دن کی توسیع

انہوں نے کہا کہ اس کیس میں مالیاتی پہلوؤں اور بینکنگ معاملات کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔

پولیس چیف کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ محض ایک بینک اکاؤنٹ کا معاملہ نہیں بلکہ اس نیٹ ورک کے مزید اکاؤنٹس بھی ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ آن لائن منشیات کی فروخت اور سپلائی کے نیٹ ورک پر نظر رکھنے اور اس کے تدارک کے لیے این سی سی آئی کی مدد بھی لی جائے گی۔

جاوید اوڈھو نے معاشرے میں بڑھتے ہوئے منشیات کے رجحان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نشے کے عادی افراد اور منشیات فروخت کرنے والے مجرموں میں واضح فرق ہوتا ہے جس کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے، منشیات کی لعنت کے خلاف کوششیں کرنا صرف پولیس کا نہیں بلکہ ہر شہری کا قومی اور اخلاقی فرض ہے۔

آئی جی سندھ نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف عدالتوں میں آ کر بلا خوف و خطر گواہی دیں تاکہ مجرم سزا سے نہ بچ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’انمول پنکی کیس: اعلیٰ افسران کی کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے کرلیے گئے

 انہوں نے اعلان کیا کہ منشیات کے خاتمے کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی جا رہی ہے اور عوام اس فورس کو خفیہ معلومات فراہم کر کے پولیس کا ساتھ دیں۔

معذرت خواہ ہوں، پچھلی بار مجھ سے بھول ہو گئی اور میں نے ہدایات پر ٹھیک سے عمل نہیں کیا۔ آپ کی تسلی کے مطابق اب اس تفصیلی خبر کو چھوٹے پیراگرافوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ہائی پروفائل کیس کی کڑیاں کئی شعبوں تک پھیلی ہوئی ہیں جس کے باعث متعدد تحقیقاتی ادارے اس نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔

پولیس چیف نے بتایا کہ ملزمہ کے خلاف منی لانڈرنگ کے پہلوؤں اور بینکنگ معاملات کی جانچ پڑتال کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو باقاعدہ خط لکھ کر تفتیش میں شامل کر لیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس براہ راست بینک اکاؤنٹس یا منی لانڈرنگ کی تحقیقات نہیں کر سکتی، اس لیے یہ دائرہ اختیار ایف آئی اے کا ہے جو اس حوالے سے نئے مقدمات بھی درج کرے گی۔

آئی جی سندھ نے تصدیق کی کہ صرف ایک اکاؤنٹ میں 3 کروڑ روپے کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ نیٹ ورک بہت بڑا ہے اور پولیس کو ایسے کئی دیگر اکاؤنٹس سامنے آنے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’مجھے لاہور سے گرفتار کرکے یہاں لائے ہیں‘، انمول پنکی کی عدالت میں دہائی

ملزمہ کی جانب سے سائبر اسپیس یعنی انٹرنیٹ کے ذریعے اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ تک منشیات پہنچانے کے نیٹ ورک کا سراغ لگانے کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی بھی ٹیم کا حصہ بن چکی ہے۔

جاوید اوڈھو نے اعتراف کیا کہ جدید دور میں جرائم کا رخ تبدیل ہو رہا ہے اور بھتہ خوری کی طرح منشیات کا کالا دھندہ بھی اب انٹرنیٹ پر منتقل ہو چکا ہے جس پر حساس وفاقی ادارے کام کر رہے ہیں۔

عدالت میں پیشی کے موقع پر ملزمہ کی سخت سیکیورٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس اس کیس سے جڑے تمام ممکنہ اور حساس خطرات کو مدنظر رکھ رہی ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ملزمہ کے کاروبار کی نوعیت ایسی ہے جس میں کئی معتبر اور بااثر شخصیات کے نام سامنے آنے کا امکان ہے جس کی وجہ سے ملزمہ کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ تفتیش کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے کوئی ملزمہ کو نقصان نہ پہنچا دے، اسی لیے مناسب سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔

انمول عرف پنکی کو گزشتہ ہفتے کراچی میں اس کے اپارٹمنٹ سے منشیات اور بغیر لائسنس اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا جو اس وقت مجموعی طور پر 15 مقدمات کا سامنا کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کوکین کوئین انمول پنکی کن تھانوں کے اہلکاروں کو رشوت دیتی رہی؟ تفتیشی رپورٹ نے سنسنی پھیلا دی

آئی جی سندھ نے واضح کیا کہ پولیس منشیات کا نشہ کرنے والے افراد اور بلک میں منشیات سپلائی کرنے والے خطرناک مجرموں میں واضح فرق کر رہی ہے تاکہ اصل گینگ تک پہنچا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشرے کی رگوں میں زہر گھولنے والے ان بڑے سپلائرز کو کسی بھی قیمت پر معاف نہیں کیا جائے گا اور نئی ٹاسک فورس ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کرے گی۔

انہوں نے شہریوں اور تاجر برادری پر زور دیا کہ وہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف نئی بننے والی ٹاسک فورس کو معلومات فراہم کریں اور عدالتوں میں گواہی کے لیے بلا خوف و خطر آگے آئیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سینیئر صحافیوں کا ’وی نیوز‘ اسلام آباد دفتر کا دورہ، استقبال اور تحائف پیش

  اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا

عمران خان کی حکومت کے خاتمے میں بیرونی سازش ثابت نہیں، سائفر پر بحث پرانا سیاسی بیانیہ

ایران پر حملے کا فیصلہ ایک گھنٹے میں کرنے والا تھا لیکن پھر معاملہ مؤخر کردیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

پاکستان اور ایشیائی بینک کے درمیان بڑا معاہدہ، این-5 کی تعمیرِ نو کے لیے 32 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری

ویڈیو

سینیئر صحافیوں کا ’وی نیوز‘ اسلام آباد دفتر کا دورہ، استقبال اور تحائف پیش

بلوچستان کے نوجوانوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کے پروگرام میں بھرپور شرکت

سعد رفیق کیخلاف سوشل میڈیا مہم، شیخ سائرہ کی روتے ہوئے لیگی رہنما سے اپیل، ایران پر حملے کی تیاری، امریکا کا پیغام

کالم / تجزیہ

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا

قدم قدم سوئے حرم