امام الحج اور مسجدِ نبویؐ کے امام الشیخ علی الحذیفی نے میدانِ عرفات میں خطبۂ حج دیتے ہوئے امتِ مسلمہ کو تقویٰ، صبر، اتحاد اور توحید اختیار کرنے کی تلقین کی۔
لاکھوں حجاج کرام نے میدانِ عرفات میں خطبۂ حج سنا، جبکہ دنیا بھر کے مسلمانوں نے بھی خطبہ حج براہِ راست دیکھا اور سنا۔
مزید پڑھیں: حج 2026 کے موقع پر میدان عرفات میں عازمین کے لیے شاندار انتظامات
خطبے میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، بھائی چارے، امن، رواداری اور باہمی احترام پر زور دیا گیا اور عالم اسلام کو اخوت و یکجہتی کا پیغام دیا گیا۔
امام الحج نے کہا کہ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، تقویٰ اختیار کرو اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق زندگی گزارو۔ انہوں نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول اور خاتم النبیین ہیں، جبکہ توحید پر عملدرآمد اہلِ ایمان کی پہچان ہے۔
For years we prayed that he would be granted this honour, and today, 9 Dhul Hijjah 1447 H, he ascends the minbar of Masjid Namira to deliver the Khutbah of Hajj, following in the footsteps of the Prophet of Allah ﷺ #Hajj #يوم_عرفة #علي_الحذيفي pic.twitter.com/r2MiZ2DwQE
— Haramain Archive (@muslimmakkah) May 26, 2026
خطبے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہرایا جائے اور رب کے سوا کسی غیر کی عبادت نہ کی جائے۔ امام الحج نے کہا کہ ایمان والوں کے سامنے جب اللہ کی آیات پیش کی جاتی ہیں تو ان کے دل نرم پڑ جاتے ہیں۔
انہوں نے مسلمانوں کو ہر مصیبت میں صبر اختیار کرنے، سچ بولنے، غلط بیانی، بدعت اور غیبت سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ صبر کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اجرِ عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔
خطبۂ حج میں کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کیا جائے کیونکہ ظلم اور ناشکری کرنے والی قوموں سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں۔
امام الحج نے حجاج کرام کو ہدایت کی کہ وہ مناسکِ حج بہترین انداز میں ادا کریں، ہر لمحہ مغفرت کی دعا کرتے رہیں اور عرفات سے روانگی کے بعد مزدلفہ جائیں جہاں اللہ کے ذکر اور عبادات میں مشغول رہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی حجاج کے لیے سہولیات پر وزیر داخلہ کا سعودی عرب کو خراجِ تحسین، انتظامات کو سراہا
خطبے کے اختتام پر امتِ مسلمہ، مسلم دنیا کے مسائل، امن و استحکام، مسلمانوں کی ہدایت، گناہوں کی مغفرت اور اعمال کی قبولیت کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
امام الحج نے زور دیا کہ حج کے دوران ہر قسم کے جھگڑے اور ایسے اعمال سے اجتناب کیا جائے جو امت کے اتحاد اور وحدت کو نقصان پہنچائیں۔
لاکھوں حجاج کرام نے میدان عرفات میں خطبہ حج سنا، خطبہ حج میں مسلم دنیا کے مسائل کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ خطبہ حج کے بعد مسجد نمرہ میں نماز ظہر اور عصر ایک ساتھ ادا کی گئی۔












