متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما فاروق ستار نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری کو ان کے عہدے سے اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ وہ پیپلز پارٹی کے مبینہ غیر قانونی کاموں میں رکاوٹ بن رہے تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل کامران ٹیسوری کو دوبارہ گورنر سندھ تعینات کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی اقبال محسود کی صاحبزادی گولی لگنے سے جاں بحق
کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ کامران ٹیسوری کو گورنر سندھ کے منصب سے ہٹانے کی اصل وجوہات عوام کے سامنے آنی چاہئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت کو کامران ٹیسوری سے کوئی مسئلہ نہیں تھا، جیسا کہ رانا ثناء اللہ کہہ رہے ہیں، تو پھر انہیں عہدے سے کیوں ہٹایا گیا۔
فاروق ستار کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے کامران ٹیسوری کو اس لیے ہٹایا کیونکہ وہ ان کے مبینہ غیر قانونی اقدامات اور مفادات کی راہ میں رکاوٹ بن رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل کامران ٹیسوری کو دوبارہ گورنر سندھ بنایا جانا چاہیے تاکہ صوبے میں شفاف اور منصفانہ سیاسی ماحول یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ بالخصوص اندرون سندھ میں بھی پیپلز پارٹی کی سیاسی گرفت کمزور ہو رہی ہے اور مستقبل قریب میں اس جماعت کا خاتمہ شروع ہو جائے گا۔ فاروق ستار نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 140-A پر عملدرآمد ایم کیو ایم پاکستان کا گزشتہ 30 برس سے بنیادی مطالبہ ہے جبکہ 28ویں آئینی ترمیم بھی ان کی جماعت کا پیش کردہ تصور ہے، جسے آج نہیں تو کل نافذ کرنا پڑے گا۔ ان کے مطابق مقامی حکومتوں کے اختیارات کے معاملے پر دیگر سیاسی جماعتیں بھی ایم کیو ایم کے مؤقف کی تائید کر رہی ہیں۔
رہنما ایم کیو ایم نے کراچی میں زمینوں پر قبضوں اور مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے باوجود بعض منصوبوں کو این او سی کیسے جاری کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ 62 ایکڑ پر مشتمل ہل پارک کی زمین کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم اب ایسے اقدامات مزید برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایم کیو ایم کے کارکن آصف کٹو کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل
فاروق ستار نے مطالبہ کیا کہ کراچی کی تمام زمینوں کی لیز کا اختیار کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے پاس ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو وفاق کے زیر انتظام دینے کی بحث نئی نہیں، کیونکہ 1947 سے 1970 تک یہ شہر وفاقی نگرانی میں رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قبضہ مافیا نے شہر کے وسائل کو نقصان پہنچایا اور اب کراچی کے عوام ایسے عناصر کو معاف نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم قبضہ مافیا کو کھلا چیلنج دیتی ہے اور شہر میں جہاں کہیں بھی زمینوں پر قبضے اور غیر قانونی سرگرمیاں ہوں گی، ان کے خلاف آواز بلند کی جائے گی۔ فاروق ستار نے سوال کیا کہ بعض جماعتیں، خصوصاً جماعت اسلامی، قبضوں کے بعض معاملات پر خاموش کیوں ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 18 برس کے دوران کراچی کو قبضہ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ ان کے مطابق پی ای سی ایچ ایس سمیت مختلف علاقوں میں زمینوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں جبکہ شہر کی پہاڑیوں کو کاٹ کر پلاٹ نکالے جا رہے ہیں اور انہیں مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے۔
فاروق ستار نے کہا کہ کراچی بتدریج جرائم پیشہ عناصر کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لوگوں کو پہاڑ فروخت کر دیے گئے اور بعد میں انہیں خود ہی پہاڑ کاٹنے کا کہا گیا۔ انہوں نے میئر کراچی سے مطالبہ کیا کہ وہ قبضہ مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی کریں۔ ان کا الزام تھا کہ کے ایم سی کے بعض افسران قبضہ مافیا کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایم کیو ایم پاکستان 15 اکتوبر تک پارٹی انتخابات کرائے، الیکشن کمیشن
فاروق ستار نے یاد دلایا کہ جب وہ خود میئر کراچی تھے تو انہوں نے ہل پارک کی اراضی پر ہونے والے قبضے ختم کرائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم آئندہ بلدیاتی انتخابات میں بھرپور تیاری کے ساتھ حصہ لے گی اور کراچی کے حقوق، اختیارات اور وسائل کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔














