سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے رکن آصف کٹو کے قتل کے مقدمے میں سنائی گئی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ 2015 میں کراچی کے علاقے کورنگی میں 4 پولیس اہلکاروں کے قتل کے مقدمے سے متعلق اپیل کی سماعت کے دوران سنایا گیا۔
سماعت کے دوران پروسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم پر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ 4 پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے باپ کے قاتل کو صلح نامہ کی بنیاد پر رہائی کا حکم دیدیا
ان کے مطابق لیبارٹری رپورٹ بھی مثبت ہے، جو استغاثہ کے مؤقف کو تقویت دیتی ہے۔
دوسری جانب ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کا نام اور حلیہ ایف آئی آر سے مطابقت نہیں رکھتا۔
وکیل کے مطابق آصف کٹو کو جیل سے اٹھا کر اس کے خلاف گرفتاری ڈالی گئی۔
انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ملزم ایم کیو ایم کا کارکن تھا اور اسے سیاسی بنیادوں پر مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید پڑھیں: عدالتوں میں اے آئی کے استعمال کی منظوری، سپریم کورٹ نے قومی گائیڈ لائنز جاری کر دیں
وکیل نے مزید بتایا کہ آصف کٹو دیگر مقدمات میں بری ہو چکے ہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ موجودہ شواہد ملزم کے لیے سزائے موت برقرار رکھنے کے لیے کافی نہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ شواہد کمزور ہیں، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جاتا ہے۔














