وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے سوشل میڈیا پر لیسکو کے خلاف کی جانے والی شکایت کے بعد محکمہ بجلی میں کھلبلی مچ گئی ہے اور 2 لائن مین سمیت ایک لائن سپرنٹنڈنٹ کو فوری طور پر معطل کردیا گیا ہے۔
ایکسیئن پھول نگر ڈویژن کے مطابق معطل ہونے والے ملازمین میں لائن سپرنٹنڈنٹ محمد حسین، لائن مین شوکت اور لائن مین فلک شیر شامل ہیں جن کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ میں ایف آئی اے کا بڑا کریک ڈاؤن: بجلی چوری اور کرپشن کے سینکڑوں کیسز بے نقاب
یہ تادیبی کارروائی وفاقی وزیر کی اس ٹوئٹ کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کے ذاتی ملازم کے گاؤں کا جلا ہوا ٹرانسفارمر 80 ہزار روپے رشوت لینے کے بعد تبدیل کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایکسیئن پھول نگر نے پوزیشن واضح کرتے ہوئے بتایا ہے کہ متاثرہ گاؤں چک 27 میں 200 کلوواٹ کا ٹرانسفارمر جلنے پر عارضی طور پر 100 کلوواٹ کا ٹرانسفارمر نصب کیا جارہا تھا، تاہم گاؤں کے لوگوں اور خواجہ آصف کے کوآرڈینیٹر نے لیسکو کے عملے کو کام کرنے سے روک دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے خود اس علاقے کا تفصیلی دورہ کیا ہے لیکن تاحال کسی بھی مقامی شخص نے لیسکو عملے کو پیسے دینے کا کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا۔
لیسکو ذرائع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ شبیر نامی ایک پرائیویٹ شخص نے گاؤں والوں سے مبینہ طور پر پیسے اکٹھے کیے تھے جس کا لیسکو سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کرپشن کیس میں گرفتار 3500 سرکاری ملازمین سے کتنی وصولی کی گئی؟
وفاقی وزیر کی ٹوئٹ کا چیف ایگزیکٹو لیسکو نے فوری نوٹس لیا ہے جس کے بعد اب ڈائریکٹر سرویلینس اینڈ انسپکشن کی سربراہی میں ایک ٹیم اس پورے معاملے کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کر رہی ہے۔
لیسکو حکام کا کہنا ہے کہ انکوائری ٹیم رشوت کے الزامات کی ہر پہلو سے تحقیقات کر کے جلد رپورٹ پیش کرے گی تاکہ ملوث عناصر کو کڑی سزا دی جا سکے۔














