پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں اتوار کی رات ایک نایاب اور خوبصورت فلکیاتی واقعہ رونما ہوا، جہاں آسمان پر ’بلیو مون‘ (نیلا چاند) نمودار ہوا جسے دیکھنے کے لیے فلکیات کے دلدادہ افراد، فوٹوگرافرز اور فیملیز کی بڑی تعداد نے رخ کیا۔
لاہور، اسلام آباد، کراچی، پشاور، کوئٹہ، فیصل آباد اور ملتان سمیت متعدد شہروں میں مطلع بالکل صاف ہونے کی وجہ سے چاند کا یہ نظارہ انتہائی واضح اور دلکش تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں سپر بلیو مون کے دلفریب نظارے
پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اسپیس سائنس کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر سید عامر محمود نے اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’بلیو مون‘ کا مطلب چاند کا رنگ نیلا ہونا ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ ایک فلکیاتی اصطلاح ہے۔ جب کسی ایک ہی انگریزی مہینے میں دو بار پورا چاند (پونم) نمودار ہو، تو دوسری بار نظر آنے والے چاند کو بلیو مون کہا جاتا ہے۔
Once in a Blue Moon 💙
Tomorrow, May 31, we will be treated to a rare second full Moon in one month – aka a Blue Moon. Which means double the Moon joy!
Check out more notable astronomical events that are happening this year here >> https://t.co/MtXTEaVuw8 pic.twitter.com/t4FGGsmIIf
— NASA Marshall (@NASA_Marshall) May 30, 2026
مئی 2026 کے مہینے میں پہلا پورا چاند یکم مئی کو دیکھا گیا تھا جبکہ دوسرا 31 مئی کی رات نظر آیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ ایونٹ عام طور پر ہر دو سے تین سال میں صرف ایک بار ہی پیش آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سمیت دنیا بھر میں کل بلیو مون جلوہ گر ہوگا
ماہرینِ فلکیات کے مطابق اس سال نظر آنے والا بلیو مون ایک ’مائیکرو مون‘ بھی تھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ چاند اپنے مدار میں زمین سے نسبتاً زیادہ فاصلے پر موجود تھا۔ فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ عام پورے چاند کے مقابلے میں سائز میں تھوڑا چھوٹا اور چمک میں کچھ مدہم دکھائی دیا۔
فلکیات میں چاند کے مختلف احوال کے لیے الگ اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں؛ جیسے زمین کے قریب ہونے پر چاند بڑا اور زیادہ روشن دکھائی دے تو اسے ’سپر مون‘ کہتے ہیں، مکمل چاند گرہن کے دوران سرخی مائل رنگت اختیار کرنے پر اسے ’بلڈ مون‘ کہا جاتا ہے، جبکہ خزاں کے موسم سے جڑے چاند کو ’ہارویسٹ مون‘ اور جون کے چاند کو ’اسٹرا بیری مون‘ کا نام دیا جاتا ہے۔













