وفاقی حکومت نے ملک بھر میں جاری کفایت شعاری مہم کے قواعد میں نرمی کرتے ہوئے دکانیں، کاروباری مراکز، شاپنگ مالز اور ریسٹورنٹس کھلے رکھنے کے اوقات کار میں توسیع کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اہم فیصلہ اسلام آباد میں ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت منعقدہ ’کمیٹی برائے مانیٹرنگ اینڈ امپلی منٹیشن آف آسٹرٹی میژرز‘ کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں شادی ہالز رات 10 اور مارکیٹیں ساڑھے 8 بجے بند کرنے کا اعلان
حکومت نے یہ ریلیف موسم گرما کی شدت میں اضافے اور دن کے طویل اوقات کو مدنظر رکھتے ہوئے تاجر برادری اور عوام کی سہولت کے لیے فراہم کیا ہے۔
نئے سرکاری فیصلے کے مطابق اب ملک بھر میں تمام دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے دیگر مراکز کو رات 11 بجے تک کاروبار کرنے کی اجازت ہوگی، تاہم ریسٹورنٹس سے کھانا گھر لے جانے (ٹیک اوے) اور ہوم ڈیلیوری کی خدمات کو اس پابندی سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا۔
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) June 3, 2026
اسی طرح شادی ہالز اور دیگر تقاریب کے مقامات کے لیے رات 10 بجے بند ہونے کا وقت مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ادویات کی دکانیں (فارمسیز)، ہسپتال، پیٹرول پمپس، اور آئی ٹی و ٹیلی کام سے وابستہ انتہائی ضروری خدمات چوبیس گھنٹے معمول کے مطابق کام کرتی رہیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: کفایت شعاری اقدامات پر وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس، مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ
اجلاس کے دوران ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار نے صوبائی حکومتوں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ قریبی تعاون برقرار رکھتے ہوئے ان نئے کاروباری اوقات کار پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
واضح رہے کہ حکومت نے مشرق وسطیٰ کی جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پیدا ہونے والے عالمی توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے رواں سال 9 مارچ کو سخت کفایت شعاری مہم کا آغاز کیا تھا، جس کے تحت سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کٹوتی اور ہفتے میں 4 دن کام جیسے اقدامات نافذ کیے گئے تھے۔
اب عوامی ریلیف کے لیے تجارتی اوقات میں چند گھنٹوں کا اضافہ کردیا گیا ہے۔














