چیف جسٹس آف پاکستان کی بار نمائندگان سے اہم مشاورتی ملاقات، ضلعی عدالتوں کی ڈیجیٹلائزیشن پر بریفنگ

بدھ 3 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیف جسٹس آف پاکستان یخییٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم کورٹ آف پاکستان میں قانونی برادری کے سرکردہ نمائندگان کے ساتھ ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں عدالتی اصلاحات، وکلا اور سائلین کے لیے سہولیات کی فراہمی، اور انصاف تک رسائی کو آسان بنانے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

 اس اعلیٰ سطحی مشاورتی بیٹھک میں اٹارنی جنرل فار پاکستان منصور عثمان اعوان سمیت لاہور، اسلام آباد، شیخوپورہ، بہاولنگر، کبیر والا، میاں چنوں اور یزمان بارز کے معزز وفود نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بار نمائندگان نے چیف جسٹس کی جانب سے شروع کیے گئے اس مشاورتی عمل اور عدالتی اصلاحات کے ایجنڈے کو زبردست الفاظ میں سراہا۔

یہ بھی پڑھیں: عدالتی اصلاحات کے سلسلے میں اہم سنگ میل، نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ کا باضابطہ اجرا

چیف جسٹس نے بار کو نظامِ انصاف کا ایک ناگزیر اور اہم ترین ستون قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ عام آدمی تک مؤثر اور فوری انصاف کی فراہمی کے لیے بینچ اور بار کے درمیان مسلسل تعاون ناگزیر ہے۔

اجلاس کے دوران وفود کو سپریم کورٹ اور ضلعی عدلیہ میں جاری جدید ترین اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں مقدمات کے اندراج کے لیے ای فائلنگ کے نظام، ویڈیو لنک کے ذریعے سماعتوں کے انعقاد اور پبلک فسیلیٹیشن سینٹرز کی کارکردگی کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

 اس کے علاوہ متبادل طریقہ کار برائے حلِ تنازعات (اے ڈی آر)، ثالثی کے نظام اور عوام دوست عدالتی ماحول کو فروغ دینے کے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

 اجلاس میں ضلعی عدلیہ کی سطح پر بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری، عدالتوں کی سولرائزیشن اور ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کو بڑھانے کے منصوبوں پر بات چیت کی گئی، جبکہ خواتین سائلین اور قانونی ماہرین کی سہولت کے لیے خصوصی خواتین فسیلیٹیشن سینٹرز اور ای لائبریریز کے قیام کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: نیشنل جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کا 56 واں اجلاس: عدالتی اصلاحات اور جدید اقدامات پر زور

اس مشاورتی ملاقات میں نوجوان وکلاء کی پیشہ ورانہ استعداد کار کو بڑھانے پر خصوصی توجہ دی گئی اور فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے تحت جاری قانونی تربیتی پروگرامز کا احاطہ کیا گیا۔ اس موقع پر نوجوان وکلا کے لیے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نئے آن لائن اور فزیکل ٹریننگ پروگرامز کا باقاعدہ اعلان بھی کیا گیا تاکہ وہ نئی ٹیکنالوجی اور قانونی باریکیوں کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

 اجلاس کے اختتام پر بینچ اور بار کے نمائندگان نے ملک میں عدالتی خودمختاری کے تحفظ، قانون کی بالادستی کو برقرار رکھنے اور ایک ایسے مؤثر نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا جو ہر شہری کے لیے بلا تاخیر انصاف کی فراہمی کو یقینی بناسکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp