دنیا کے سب سے بڑے کھیل ’فیفا ورلڈ کپ 2026‘ کے آغاز میں جہاں اب چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں، وہیں سائبر سیکیورٹی ماہرین اور عالمی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فٹبال کے متوالوں کے لیے ایک سنگین الرٹ جاری کیا ہے۔
حکام کے مطابق دھوکے باز اور سائبر مجرم ٹورنامنٹ کے بڑھتے ہوئے جنون کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی ٹکٹ ویب سائٹس، گمراہ کن سوشل میڈیا اشتہارات اور آن لائن فراڈ کی ایک ہولناک لہر چلا رہے ہیں، جس کا مقصد شائقین کی جمع پونجی اور ذاتی ڈیٹا چوری کرنا ہے۔
یاد رہے کہ 11 جون سے شروع ہونے والا یہ ٹورنامنٹ تاریخ کا سب سے بڑا ورلڈ کپ ہوگا، جس میں 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں اور مجموعی طور پر 104 میچز امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے مختلف شہروں میں کھیلے جائیں گے۔ تاہم ٹکٹوں کی انتہائی بلند قیمتوں اور محدود دستیابی نے ایسے شائقین کو مجبور کر دیا ہے جو سستے متبادل تلاش کر رہے ہیں اور یہی مجبوری اب ان کے لیے جال بن چکی ہے۔
ایف بی آئی کی کارروائی اور ’ڈارک ویب‘ کا گٹھ جوڑ
امریکی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن(ایف بی آئی) نے حال ہی میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے 36 ایسی جعلی ویب سائٹس کی نشاندہی کر کے انہیں بلاک کیا ہے جو ہو بہو فیفا کی سرکاری ویب سائٹ جیسی دکھائی دیتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں:104 میچز، 48 ٹیمیں اور اربوں شائقین، فیفا ورلڈ کپ 2026 میں کیا کچھ نیا ہونے جارہا ہے؟
تحقیقات کے مطابق’fifa-ticket.live‘ اور ’fifaworldcup26.sale‘ جیسے انٹرنیٹ ڈومینز مبینہ طور پر صارفین کی انتہائی حساس ذاتی معلومات، بینکنگ تفصیلات اور کریڈٹ کارڈ نمبرز چرانے کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔ ان ویب سائٹس پر جن ٹکٹوں اور یادگاری اشیا کی فروخت کا دعویٰ کیا جا رہا تھا، وہ حقیقت میں موجود ہی نہیں تھیں۔
سنگاپور میں قائم معروف سائبر سیکیورٹی کمپنی ’گروپ آئی بی‘ کی رپورٹ نے اس صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال اگست سے اب تک فیفا سے منسلک ہونے کا تاثر دینے والی 4,300 سے زیادہ جعلی ڈومینز رجسٹر کی جا چکی ہیں۔
تحقیقات کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان میں سے کئی ویب سائٹس ابھی ’سلیپر موڈ‘ (غیر فعال) میں ہیں، لیکن جیسے ہی ٹورنامنٹ کا باقاعدہ آغاز ہوگا، انہیں فوری طور پر فعال کر دیا جائے گا۔ کمپنی نے انکشاف کیا ہے کہ ان میں سے 300 سے زیادہ ڈومینز ایک ہی منظم سائبر گروہ سے منسلک ہیں۔
شائقین کا ایف او ایم او اور ماہرین کی رائے
نفسیاتی ماہرین اور سائبر سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فراڈ شائقین کے ’موقع ضائع ہونے کے خوف‘ یعنی فیئر آف مسنگ آؤٹ (ایف او ایم او‘ کا بے جا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یونیورسٹی آف ٹلسا میں سائبر اسٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر جسٹن ملر نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجرم بڑے کھیلوں کے ایونٹس کو اس لیے نشانہ بناتے ہیں کیونکہ یہاں 3 عناصر یعنی عوامی توجہ، جلد بازی اور مالی لین دین ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیںفیفا ورلڈ کپ: امریکا نے ایرانی فٹبال ٹیم کو قیام کی اجازت نہیں دی، ٹیم میکسیکو میں رہے گی
پروفیسر جسٹن ملر نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’ دھوکے باز شائقین کے جوش، محدود ٹکٹوں اور موقع ہاتھ سے نکل جانے کے خوف کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ آج کے سائبر مجرموں کے لیے فیفا کی مضبوط سیکیورٹی کو توڑنے کے بجائے کسی معتبر ادارے کی ہو بہو نقل تیار کرنا زیادہ آسان ہو گیا ہے اور لوگ اس دھوکے میں آسانی سے آ جاتے ہیں‘۔
ہو بہو نقل اور کریڈٹ کارڈز کے نیٹ ورکس
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ متعدد جعلی ویب سائٹس فیفا کی اصل ویب سائٹ سے اس قدر مشابہت رکھتی ہیں کہ عام آدمی کے لیے فرق کرنا ناممکن ہے۔ ان پر ورلڈ کپ کی سرکاری برانڈنگ، لائیو کاؤنٹ ڈاؤن اور فیفا کے آفیشل پیمنٹ پارٹنر ’ویزا‘ کا لوگو بھی موجود ہوتا ہے۔
ان ویب سائٹس میں ایسے جدید انٹرفیس اور پیمنٹ گیٹ ویز شامل کیے گئے ہیں جن کے ذریعے صارف اپنی پسند کا میچ اور سیٹ منتخب کر کے بظاہر ایک حقیقی ادائیگی کے مرحلے تک پہنچ جاتا ہے، جہاں اس کا بینک اکاؤنٹ منٹوں میں خالی کر دیا جاتا ہے۔
فیس بک اور میٹا پلیٹ فارمز پر تشہیر
سوشل میڈیا بھی اس منظم فراڈ کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ بین الاقوامی صحافیوں نے جب فیس بک پر مختلف زبانوں میں چلنے والے اشتہارات کا جائزہ لیا، تو معلوم ہوا کہ ہزاروں اشتہارات صارفین کو براہ راست ان ہی جعلی ٹکٹ ویب سائٹس کی طرف دھکیل رہے تھے۔
اسی طرح، سائبر سیکیورٹی کمپنی ’بٹ ڈیفنڈر‘ نے میٹا کے پلیٹ فارمز پر فٹبال سے متعلق 55 ایسی بڑی جعلی اشتہاری مہمات کی نشاندہی کی ہے، جن میں نقلی یادگاری اشیا، جرسیاں اور سستے مرچنڈائز کی تشہیر کی جا رہی تھی۔
اس سنگین صورتحال کے جواب میں فیس بک اور انسٹاگرام کی پیرنٹ کمپنی ’میٹا‘ نے اب ورلڈ کپ ٹکٹ تلاش کرنے والے صارفین کے لیے انتباہی پیغامات متعارف کرائے ہیں۔ میٹا انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ان نیٹ ورکس اور اکاؤنٹس کو پلیٹ فارم سے ہٹا دیا ہے جو جعلی فیفا ویب سائٹس اور غیر قانونی جوئے کے مواد کو فروغ دے رہے تھے۔
لنکڈ ان کا استعمال اور نوکریوں کے نام پر فراڈ
سائبر لٹیروں نے صرف ٹکٹوں تک ہی خود کو محدود نہیں رکھا، بلکہ روزگار کے متلاشی افراد کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حکام نے ورلڈ کپ سے منسلک عارضی ملازمتوں کے نام پر بڑے فراڈ رپورٹ کیے ہیں۔
بعض جعلی ویب سائٹس ورلڈ کپ کے اسٹیڈیمز اور انتظامیہ میں نوکریوں کی پیشکش کرتی ہیں اور شائقین کا اعتماد جیتنے کے لیے لنکڈاِن سے حقیقی ملازمین کے نام، عہدے اور تصاویر چوری کر کے اپنی ویب سائٹس پر لگا دیتی ہیں۔
اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ متعدد حقیقی فیفا ملازمین نے عوامی طور پر سوشل میڈیا پر پوسٹس شیئر کر کے خبردار کیا ہے کہ ان کی شناخت اور تصاویر دھوکے بازوں کے ذریعے استعمال کی جا رہی ہیں، لہٰذا کسی بھی ملازمت کی پیشکش پر رقم جمع نہ کروائی جائے۔
نقلی جرسیاں اور ورلڈ کپ ٹرافیاں ضبط
آن لائن فراڈ کے متوازی، زمینی سطح پر جعلی اور اسمگل شدہ سامان کی فروخت میں بھی بے پناہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ٹورنٹو پولیس نے رواں ہفتے ایک بڑی چھاپہ مار کارروائی کے بعد اعلان کیا ہے کہ انہوں نے مارکیٹ سے 16,000 سے زیادہ جعلی فٹبال جرسیاں، مختلف ممالک کے جھنڈے اور دو عدد نقلی ’ورلڈ کپ ٹرافیاں‘ ضبط کی ہیں، جنہیں اصل کہہ کر مہنگے داموں بیچنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔
حکام کی جانب سے شائقین کے لیے اہم گائیڈ لائنز
امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے سیکیورٹی حکام اور فیفا انتظامیہ نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے شائقین کو سختی سے مشورہ دیا ہے کہ ٹکٹ صرف اور صرف فیفا کی آفیشل ویب سائٹ ’فیفا ڈاٹ کام‘ سے خریدے جائیں۔
مزید پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ 2026 کا آفیشل ترانہ جاری، شکیرا نے رائلٹی بچوں کی تعلیم پر خرچ کرنے کا اعلان کردیا
کسی بھی لنک پر کلک کرنے سے پہلے براؤزر کے ایڈریس بار میں ویب سائٹ کا ہجے اور ‘https://’ کو اچھی طرح چیک کریں۔
سوشل میڈیا، واٹس ایپ یا ای میل پر نظر آنے والی غیر معمولی طور پر سستی یا ’آخری منٹ کی آفرز‘ سے دور رہیں۔ کسی بھی غیر تصدیق شدہ ویب سائٹ پر اپنے کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات یا شناختی معلومات کا اندراج ہرگز نہ کریں۔
سیکیورٹی ماہرین کا حتمی طور پر کہنا ہے کہ جیسے جیسے 11 جون کی تاریخ قریب آئے گی اور ٹورنامنٹ کا آغاز ہوگا، ان کارروائیوں کی تعداد، شدت اور پیچیدگی میں مزید اضافہ متوقع ہے، لہٰذا فٹبال شائقین کو ہر قدم پر انتہائی محتاط اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔














