ایلون مسک کو اوپن اے آئی کے خلاف مقدمے میں شکست کا سامنا

منگل 19 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کی وفاقی عدالت کی جیوری نے ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی کے خلاف دائر مقدمے میں ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک کے دعوے مسترد کرتے ہوئے کمپنی کو ذمہ دار قرار دینے سے انکار کر دیا۔

مزید پڑھیں: ایلون مسک اور اوپن اے آئی کے درمیان ہائی پروفائل قانونی معرکہ منطقی انجام کے قریب پہنچ گیا

کیلیفورنیا کے شہر اوکلینڈ میں جاری مقدمے کے فیصلے میں جیوری نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ ایلون مسک نے مقدمہ دائر کرنے میں بہت تاخیر کی۔

مقدمے کی سماعت 28 اپریل سے جاری تھی اور اسے مصنوعی ذہانت کی صنعت کے مستقبل کے لیے اہم مقدمہ قرار دیا جا رہا تھا۔ مقدمے کے دوران اوپن اے آئی اور اس کے سربراہ کی ساکھ بھی زیر بحث رہی، جبکہ فریقین نے ایک دوسرے پر مالی مفادات کو ترجیح دینے کے الزامات عائد کیے۔

ایلون مسک کا مؤقف تھا کہ اوپن اے آئی اپنی اصل انسانی فلاح کی پالیسی سے ہٹ گئی ہے اور سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچانے پر توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مائیکروسافٹ کو شروع سے معلوم تھا کہ اوپن اے آئی مالی مفادات کو ترجیح دے رہی ہے۔

دوسری جانب اوپن اے آئی کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ ایلون مسک خود مالی مفادات کے تحت کارروائی کر رہے ہیں اور انہوں نے بہت دیر سے قانونی دعویٰ دائر کیا۔

مزید پڑھیں:مریخ پر 10 لاکھ افراد کی آبادکاری پر ایلون مسک کے لیے بڑے انعام کا اعلان

عدالتی کارروائی کے دوران بتایا گیا کہ مائیکرو سافٹ اوپن اے آئی کے ساتھ شراکت داری میں 100 ارب ڈالر سے زائد خرچ کر چکی ہے، جبکہ اوپن اے آئی مستقبل میں حصص کی عوامی فروخت کی تیاری بھی کر رہی ہے، جس سے کمپنی کی مالیت ایک کھرب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

مقدمے کو مصنوعی ذہانت کے استعمال، اس کی حفاظت اور اس سے مالی فائدہ اٹھانے کے حوالے سے عالمی بحث کا اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp