دنیا بھر میں یورپ کو نازی قبضے سے آزاد کرانے میں اہم ترین کردار ادا کرنے والے تاریخی فوجی معرکے کی 82 ویں برسی منائی گئی۔ اس سال فرانس میں منعقد ہونے والی باوقار یادگاری تقاریب اس وقت مزید اہم اختیار کر گئیں جب برطانوی یادگار میں ایک خاص اضافہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: نازی علامات کی نمائش کا الزام، آسٹریلیا نے برطانوی شہری کو ملک بدر کردیا
اس تاریخی موقع پر تقریباً 100 ایسے افراد کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے جن کے نام پہلے سرکاری ریکارڈ سے غائب تھے۔ یادگار کے ٹرسٹ کی جانب سے کی جانے والی طویل اور محتاط تحقیق کے بعد اس جنگ کے برطانوی اعزازی ریکارڈ سے ان 98 گمشدہ ناموں کی شناخت کی گئی۔

ان ناموں میں برطانوی کمان کے تحت خدمات سرانجام دینے والے بیلجیم کے فوج کے ایک افسر اور امریکی بحریہ کے ایک پائلٹ بھی شامل ہیں، جن کے نام اب یادگار کی ایک خصوصی تختی پر کندہ کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: برازیلی صدر کی اسرائیل کو ہٹلر سے تشبیہ، غزہ پر جنگ نسل کشی قرار
یہ تمام نام اب اس یادگار پر پہلے سے موجود 22,442 ناموں کا حصہ بن چکے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس خطے میں یہ واحد یادگار ہے جہاں اس پوری فوجی مہم کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے تمام برطانوی فوجی اہلکاروں کے نام درج ہیں۔
حکام نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ 82 ویں برسی ممکنہ طور پر آخری مواقع میں سے ایک ہے جہاں اس جنگ میں بچ جانے والے معمر فوجیوں کا ایک بڑا گروپ خود شرکت کر سکا ہے، جس کی وجہ سے امن، آزادی اور قربانی کی اس تقریب نے وہاں موجود تمام افراد کو انتہائی جذباتی کر دیا۔














