وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اہم اجلاس آج سہ پہر 3 بجے وزیراعظم ہاؤس میں ہوگا۔
اجلاس میں آئندہ مالی سال 27-2026 کے قومی ترقیاتی بجٹ، اہم معاشی اہداف اور وفاقی و صوبائی ترقیاتی پروگراموں کی منظوری پر غور کیا جائے گا۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بطور ارکان شریک ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس مؤخر، بجٹ کب پیش ہوگا؟
اجلاس کے ایجنڈے کے مطابق آئندہ مالی سال کا قومی ترقیاتی بجٹ منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
جبکہ رواں مالی سال 26-2025 کے ترقیاتی بجٹ کی کارکردگی اور پیش رفت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی بجٹ منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے، جبکہ صوبوں کے سالانہ ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی پریزنٹیشن بھی دی جائے گی۔
مزید پڑھیں: نور محمد دمڑ کو قومی اقتصادی کونسل اجلاس میں شرکت مہنگی پڑگئی
اس کے علاوہ آئندہ مالی سال کے اہم معاشی اہداف کی منظوری بھی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے۔
قومی اقتصادی کونسل کے ارکان کو صوبوں کے اہم سماجی و معاشی اشاریوں کے حوالے سے بھی بریفنگ دی جائے گی.
جبکہ آئندہ مالی سال 27-2026 کے پبلک سیکٹر انویسٹمنٹ پروگرام اور رواں مالی سال 26-2025 کے دوران سرکاری شعبے کی سرمایہ کاری کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: بڑھتی آبادی بڑا قومی چیلنج، وزیراعظم شہباز شریف کی قومی آبادی کونسل قائم کرنے کی ہدایت
ایجنڈے کے مطابق یکم اپریل 2025 سے 31 مارچ 2026 تک سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کی پیش رفت رپورٹ اجلاس میں پیش کی جائے گی۔
اسی عرصے کے دوران مختلف ترقیاتی اسکیموں کی سی ڈی ڈبلیو پی اور ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) سے منظوری سے متعلق رپورٹ بھی شرکا کے سامنے رکھی جائے گی۔
اجلاس میں ملک بھر میں جاری میگا ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ اور ایویلیوایشن رپورٹ بھی پیش کی جائے گی تاکہ ان منصوبوں کی پیش رفت اور اہداف کے حصول کا جائزہ لیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کی تنظیم نو کی منظوری دیدی
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اجلاس کے آغاز میں شرکا کو تفصیلی پریزنٹیشن دیں گے، جس میں ترقیاتی پروگراموں، سرمایہ کاری، معاشی ترجیحات اور آئندہ مالی سال کے مجوزہ اہداف پر بریفنگ دی جائے گی۔
قومی اقتصادی کونسل کے اس اجلاس کو وفاقی بجٹ 27-2026 کی تیاریوں کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں ترقیاتی اخراجات، سرمایہ کاری کے منصوبوں اور قومی معاشی ترجیحات کے تعین سے متعلق اہم فیصلے کیے جانے کا امکان ہے۔












