وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے مشرقِ وسطیٰ میں تازہ کشیدہ صورت حال اور تشدد کی نئی لہر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں۔
وزیراعظم نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ و جدل کے بجائے ’امن کو ایک اور موقع‘ دیں تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔
غیر مستحکم جنگ بندی کے سنگین نتائج
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر جاری اپنے ایک اہم اور اسٹرٹیجک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیل اور ایران کا نام لیے بغیر مشرقِ وسطیٰ کی تازہ نازک صورتحال کا احاطہ کیا۔
The recent surge in violence in the Middle East is a stark reminder of the dangers associated with a tenuous ceasefire and the unbearable consequences it may lead to. As we work earnestly and painstakingly, together with our brothers and partners, to find a peaceful diplomatic…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) June 8, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں تازہ کشیدگی اور تشدد اس بات کی واضح اور خطرناک یاددہانی ہے کہ ایک ’غیر مستحکم جنگ بندی‘ کتنے سنگین خطرات اور ناقابلِ برداشت نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ عارضی اور کمزور اقدامات مستقل امن کا متبادل نہیں ہو سکتے۔
پرامن اور سفارتی حل کے لیے پاکستان کی کوششیں
وزیراعظم نے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور ثالثی کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اس بحران سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ پاکستان اپنے برادر ممالک اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر تنازع کے مستقل، پرامن اور سفارتی حل کے لیے سنجیدہ، تعمیری اور مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی امن کوششیں قابلِ تحسین، خطے میں پائیدار استحکام کے لیے پاکستان متحرک، وزیراعظم شہباز شریف
ان کا کہنا تھا کہ جب ایک منصفانہ اور پائیدار حل کے حصول کا مقصد قریب دکھائی دے رہا ہو، تو ایسے نازک وقت میں کشیدگی کا اچانک بڑھ جانا اب تک کی تمام سفارتی کوششوں اور امن کی امیدوں کو یکسر نقصان پہنچا سکتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ حالیہ بحران محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی سیکیورٹی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ پاکستان روایتی طور پر مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل، خاص طور پر مسئلہ فلسطین کے پائیدار اور دو ریاستی حل کا حامی رہا ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم کا یہ بیان پاکستان کے اس اصولی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے جہاں وہ خطے کے اہم برادر ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی فرنٹ پر سرگرمِ عمل ہے۔
تشدد کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے
شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی تمام متعلقہ عالمی اور علاقائی طاقتوں سے پرزور اپیل کی کہ وہ اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور جاری سفارتی کوششوں کو کامیاب ہونے کا پورا موقع فراہم کریں۔
انہوں نے زور دیا کہ تشدد، بارود اور تباہی کے راستے کے بجائے صرف اور صرف ’امن اور سفارت کاری کی راہ‘ اختیار کی جانی چاہیے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ یہی واحد راستہ ہے جو خطے میں حقیقی استحکام اور دیرپا امن کے حصول کی روشن امید فراہم کرتا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے پیغام کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی اور علاقائی امن کے لیے اب یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ تمام فریقین اپنے اپنے تنازعات کے حل کے لیے میز پر بیٹھیں، مذاکرات کریں اور سفارت کاری کو ہر دوسرے راستے پر ترجیح دیں تاکہ مزید معصوم انسانی جانوں کے ضیاع اور بڑے پیمانے پر ہونے والی مالی و جغرافیائی تباہی کا راستہ روکا جا سکے۔













