مشرقِ وسطیٰ میں تازہ کشیدہ صورتحال پر تشویش، فریقین تشدد کا راستہ چھوڑیں، امن کو ایک اور موقع دیں، شہباز شریف

پیر 8 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے مشرقِ وسطیٰ میں تازہ کشیدہ صورت حال اور تشدد کی نئی لہر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں۔

وزیراعظم نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ و جدل کے بجائے ’امن کو ایک اور موقع‘ دیں تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔

غیر مستحکم جنگ بندی کے سنگین نتائج

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر جاری اپنے ایک اہم اور اسٹرٹیجک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیل اور ایران کا نام لیے بغیر مشرقِ وسطیٰ کی تازہ نازک صورتحال کا احاطہ کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں تازہ کشیدگی اور تشدد اس بات کی واضح اور خطرناک یاددہانی ہے کہ ایک ’غیر مستحکم جنگ بندی‘ کتنے سنگین خطرات اور ناقابلِ برداشت نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ عارضی اور کمزور اقدامات مستقل امن کا متبادل نہیں ہو سکتے۔

پرامن اور سفارتی حل کے لیے پاکستان کی کوششیں

وزیراعظم نے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور ثالثی کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اس بحران سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ پاکستان اپنے برادر ممالک اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر تنازع کے مستقل، پرامن اور سفارتی حل کے لیے سنجیدہ، تعمیری اور مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی امن کوششیں قابلِ تحسین، خطے میں پائیدار استحکام کے لیے پاکستان متحرک، وزیراعظم شہباز شریف

ان کا کہنا تھا کہ جب ایک منصفانہ اور پائیدار حل کے حصول کا مقصد قریب دکھائی دے رہا ہو، تو ایسے نازک وقت میں کشیدگی کا اچانک بڑھ جانا اب تک کی تمام سفارتی کوششوں اور امن کی امیدوں کو یکسر نقصان پہنچا سکتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ حالیہ بحران محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی سیکیورٹی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ پاکستان روایتی طور پر مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل، خاص طور پر مسئلہ فلسطین کے پائیدار اور دو ریاستی حل کا حامی رہا ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم کا یہ بیان پاکستان کے اس اصولی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے جہاں وہ خطے کے اہم برادر ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی فرنٹ پر سرگرمِ عمل ہے۔

تشدد کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے

شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی تمام متعلقہ عالمی اور علاقائی طاقتوں سے پرزور اپیل کی کہ وہ اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور جاری سفارتی کوششوں کو کامیاب ہونے کا پورا موقع فراہم کریں۔

انہوں نے زور دیا کہ تشدد، بارود اور تباہی کے راستے کے بجائے صرف اور صرف ’امن اور سفارت کاری کی راہ‘ اختیار کی جانی چاہیے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ یہی واحد راستہ ہے جو خطے میں حقیقی استحکام اور دیرپا امن کے حصول کی روشن امید فراہم کرتا ہے۔

وزیراعظم نے اپنے پیغام کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی اور علاقائی امن کے لیے اب یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ تمام فریقین اپنے اپنے تنازعات کے حل کے لیے میز پر بیٹھیں، مذاکرات کریں اور سفارت کاری کو ہر دوسرے راستے پر ترجیح دیں تاکہ مزید معصوم انسانی جانوں کے ضیاع اور بڑے پیمانے پر ہونے والی مالی و جغرافیائی تباہی کا راستہ روکا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فیفا ورلڈ کپ: یوراگوئے، ایران اور بیلجیئم کو افتتاحی میچوں میں ڈراز کا سامنا

افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی عالمی امن کے لیے خطرہ، یورپی یونین کی پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت

اقصادی سروے اور غربت کی شرح، عام آدمی کہاں کھڑا ہے؟

امریکی حملے میں 3 بھارتی ملاحوں کی ہلاکت، مودی حکومت کی خارجہ پالیسی تنقید کی زد میں

امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے، بلوچستان کے کاروبار پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

ویڈیو

امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے، بلوچستان کے کاروبار پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات، نقصان عوام کا کیسے؟

ایران امریکا کے درمیان فریم ورک معاہدہ کیا ہے اور آئندہ ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں کیا طے کیا جائے گا؟

کالم / تجزیہ

تاریخ کا رخ موڑنے والا ایک نیا اور سرخرو پاکستان

پنجاب کا حق، ایتھے رکھ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ