افریقہ کے بہترین فٹبال ریفری قرار دیے جانے والے صومالی عہدیدار عمر عبدالقادر آرتان کو امریکا میں داخلے کی اجازت نہ ملنے کے باعث فیفا ورلڈ کپ 2026 کی آفیشل فہرست سے خارج کر دیا گیا۔
34 سالہ عمر عبدالقادر آرتان کینیا سے ترکی کے راستے میامی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے تھے، تاہم امریکی حکام نے انہیں ملک میں داخل ہونے کی اجازت دینے کے بجائے واپس ترکی جانے والی پرواز میں سوار کر دیا۔ حکام کی جانب سے اس فیصلے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی گئی۔
مزید پڑھیں:ورلڈ کپ 2026 کے آغاز پر فیفا اور نیٹ فلکس کا مشترکہ گیمنگ منصوبہ
صومالی سفارتخانے نے، جو نیروبی میں قائم ہے، آرتان کے سفر میں معاونت کرتے ہوئے انہیں سفارتی پاسپورٹ جاری کیا تھا تاکہ ویزا سے متعلق مسائل حل کیے جا سکیں۔ فیفا نے گزشتہ ہفتے ہی اعلان کیا تھا کہ ریفری کے ویزا سے متعلق تمام معاملات مکمل طور پر حل ہو چکے ہیں اور وہ ورلڈ کپ میں فرائض انجام دینے کے لیے دستیاب ہوں گے۔
تاہم فیفا نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ عمر عبدالقادر آرتان اب ورلڈ کپ 2026 میں تربیتی سرگرمیوں اور میچ آفیشیٹنگ میں حصہ نہیں لے سکیں گے کیونکہ انہیں امریکا میں داخلے سے روک دیا گیا ہے۔
فیفا کے مطابق میزبان ملک کے امیگریشن اور ویزا فیصلوں میں ادارے کا کوئی کردار نہیں ہوتا اور حتمی اختیار متعلقہ حکومت کے پاس ہوتا ہے کہ کس شخص کو ویزا دیا جائے اور ملک میں داخلے کی اجازت ملے۔
یاد رہے کہ صومالیہ ان ممالک میں شامل ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفری پابندیوں کی فہرست میں موجود ہیں۔ صدر ٹرمپ ماضی میں صومالی تارکین وطن اور صومالیہ کے بارے میں سخت بیانات بھی دے چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ 2026 سے قبل امریکا کی نئی سفری ہدایت، میکسیکو جانے والے شائقین کو احتیاط برتنے کا مشورہ
عمر عبدالقادر آرتان کو نومبر 2025 میں کنفیڈریشن آف افریقن فٹبال (CAF) ایوارڈز میں ’افریقہ کے بہترین ریفری‘ کا اعزاز دیا گیا تھا۔
دوسری جانب اطلاعات کے مطابق امریکا نے ایران کے قومی فٹبال عملے کے بعض ارکان کو بھی ورلڈ کپ کے لیے ویزے جاری کرنے سے انکار کیا ہے، جس کے باعث ٹورنامنٹ سے قبل امیگریشن پالیسیوں پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔













