امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلیٰ مہارت رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں کے لیے ایچ ون بی (H-1B) ویزا پر عائد کی گئی ایک لاکھ ڈالر فیس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا ہے۔
بوسٹن میں امریکی ڈسٹرکٹ جج نے پیر کے روز اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ فیس درحقیقت ایک ٹیکس تھی، جس کے نفاذ کی اجازت امریکی کانگریس نے صدر کو نہیں دی تھی۔
مزید پڑھیں: ایپسٹین فائلز کا نیا حصہ جاری، ٹرمپ سے متعلق الزامات پر مبنی ایف بی آئی انٹرویوز کی دستاویزات منظر عام پر
یہ مقدمہ 20 ڈیموکریٹک ریاستی اٹارنی جنرلز کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جنہوں نے ستمبر میں صدر ٹرمپ کے اعلان کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ اس اعلان کے تحت نئے ایچ ون بی ویزوں کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ کر دیا گیا تھا۔
ایچ ون بی پروگرام کے تحت ہر سال 65 ہزار ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کو ویزے جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ اعلیٰ تعلیمی ڈگری رکھنے والوں کے لیے مزید 20 ہزار ویزے مختص ہوتے ہیں۔ ٹرمپ کے فیصلے سے قبل آجر حضرات مختلف عوامل کے مطابق عموماً 2 ہزار سے 5 ہزار ڈالر تک فیس ادا کرتے تھے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق ایک لاکھ ڈالر کی فیس نافذ ہونے کے بعد ایچ ون بی ویزا درخواستوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ انتظامیہ کے مطابق 15 فروری تک صرف 85 درخواست گزاروں نے یہ فیس ادا کی تھی۔
حکومت کا مؤقف تھا کہ یہ رقم ایک مالیاتی جرمانہ ہے جسے صدر کو وفاقی امیگریشن قوانین کے تحت بعض غیر ملکی شہریوں کے داخلے کو محدود کرنے کے لیے عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
تاہم جج لیو سوروکن، جنہیں سابق صدر اوباما نے تعینات کیا تھا، نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اس ادائیگی کی نوعیت اور عملی اطلاق واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک ٹیکس ہے، خواہ اسے کسی بھی نام سے پکارا جائے۔
عدالت کے فیصلے کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔














