سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطرناک، پانی کو ہتھیار بنانا کروڑوں افراد کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے، فرانسیسی اخبار

منگل 9 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فرانس کے معروف روزنامے لی مونڈ (Le Monde) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کو جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے ایک بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا خطے کے کروڑوں افراد کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ پاکستان کی بقا، خودمختاری اور آبی سلامتی کی ضمانت قرار

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپریل 2025 میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے اعلان نے پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے تنازع کو مزید شدت دی۔

رپورٹ کے مطابق دریاؤں کے بہاؤ، آبی ذخائر کے انتظام اور ہائیڈرولوجیکل معلومات کے تبادلے سے متعلق اقدامات نے پانی کو خطے کی جغرافیائی سیاست کا ایک اہم عنصر بنا دیا ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان کی معیشت، زراعت، خوراک کی پیداوار اور توانائی کا بڑا حصہ دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ ہے، اس لیے آبی بہاؤ میں کسی بھی غیر متوقع تبدیلی کے براہِ راست اثرات لاکھوں افراد کی زندگیوں اور معاشی سرگرمیوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

لی مونڈ کے مطابق بین الاقوامی قانونی فورمز کی حالیہ آراء بھی اس بحث کو تقویت دے رہی ہیں کہ سندھ طاس معاہدہ ایک مؤثر اور قابلِ عمل بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔ رپورٹ میں اس امر پر زور دیا گیا کہ بین الاقوامی معاہدوں کی حیثیت سیاسی اعلانات کے بجائے قانونی اصولوں اور طے شدہ ذمہ داریوں سے متعین ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: پانی کا بحران اور سندھ طاس معاہدہ: بھارت کے یکطرفہ اقدامات سے پاکستان کو سنگین سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا

رپورٹ میں ماحولیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کے پگھلاؤ، بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کی قلت کو بھی مستقبل کے بڑے چیلنجز قرار دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ اگرچہ کئی دہائیوں تک مؤثر رہا، تاہم بدلتے موسمی اور آبادیاتی حالات نئے مسائل کو جنم دے رہے ہیں جن کے لیے مزید تعاون اور جدید انتظامی طریقہ کار کی ضرورت ہوگی۔

لی مونڈ نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی کہ سرحد پار آبی وسائل کا معاملہ صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے مختلف خطوں میں بالائی اور زیریں کنارے کے ممالک کے درمیان اسی نوعیت کے خدشات موجود ہیں۔

اس تناظر میں رپورٹ نے آبی وسائل کے منصفانہ استعمال، معلومات کے تبادلے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو علاقائی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

مزید پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ: 100 دن گزر گئے، بھارت اقوام متحدہ کے سوالات کا جواب نہ دے سکا

تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی میڈیا، بین الاقوامی قانونی اداروں اور انسانی حقوق کے حلقوں میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق بڑھتی ہوئی بحث اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ پانی کا مسئلہ مستقبل میں جنوبی ایشیا کی سلامتی، معیشت اور علاقائی تعاون کے اہم ترین موضوعات میں شامل رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت کا 2 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے کی صورتحال اور پاک سعودی تعلقات پر تبادلہ خیال

جنوبی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ ناکام بنا دیا، 4 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک

مون سون بارشیں جاری، چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

ویڈیو

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

آزاد کشمیر الیکشن: گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی، کس کا پلڑا بھاری؟

پہلا ٹیسٹ: برائن لارا اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

کالم / تجزیہ

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار