آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے شہری علاقوں میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے جہاں سڑکوں، گلی محلوں اور رہائشی علاقوں میں ان کے جھنڈ نہ صرف روزمرہ معمولات متاثر کر رہے ہیں بلکہ شہریوں کی حفاظت بھی سنگین سوال بن چکی ہے۔
صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہو گئی جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند آوارہ کتے ایک بچے کے پیچھے دوڑتے ہیں جس کے باعث وہ خوفزدہ ہو کر دوڑتا ہوا گھر میں داخل ہو جاتا ہے اور گیٹ بند کر لیتا ہے۔
آوارہ کتوں کو مارنے پر پابندی ہے اور پکڑ کر کسی ڈاگ سنٹر منتقلی کا کوئی طریقہ کار یا میکنزم نہیں۔ لوگ سوسائٹی میں گھروں کے باہر واک نہیں کر سکتے، بچے قریبی شاپ تک جانے کو پریشان ہیں۔ آوارہ کتوں نے شہریوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ کوئی تو حل نکالیں pic.twitter.com/pcdTt5tsQo
— Awais Yousaf Zai (@awaisReporter) June 9, 2026
شہریوں کا کہنا ہے کہ گلی محلوں میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث نہ صرف گھروں کے باہر واک کرنا مشکل ہو گیا ہے بلکہ بچے بھی قریبی دکانوں تک جانے سے خوف محسوس کرتے ہیں۔ متعدد علاقوں میں آوارہ کتوں کے جھنڈ شہریوں کے لیے براہِ راست خطرہ بنتے جا رہے ہیں اور ان کو مارنے پر پابندی ہے۔
عوامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ حکومت کی جانب سے نہ تو آوارہ کتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے کوئی واضح اور مستقل حکمتِ عملی موجود ہے اور نہ ہی انہیں محفوظ طریقے سے پکڑ کر ڈاگ سنٹر منتقل کرنے کا کوئی مربوط نظام فعال ہے جس کے باعث مسئلہ روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’حادثے کی صورت میں ذمہ داری کس کی ہو گی‘، اسلام آباد میں آوارہ کتوں کی بھرمار سے شہری خوفزدہ
شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے فوری، جامع اور مؤثر لائحہ عمل تیار کیا جائے تاکہ عوام کو تحفظ اور سکون میسر آ سکے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کے سیکٹر آئی-8 میں آوارہ کتوں کے جھنڈ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس پر شہریوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی قسم کا ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ انتظامیہ پر، جانوروں کے حقوق کے اداروں پر یا عدالت پر؟














