پنجاب اسمبلی میں والڈ سٹی بل پر بحث کے دوران سینیئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بعض ارکان کو خود معلوم نہیں کہ والڈ سٹی بل میں کیا ہے۔
ایوان میں خطاب کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ اپوزیشن رکن نے ایک گھنٹے کی تقریر میں جو باتیں کیں وہ حقائق کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ خود کو لاہور کا شہری قرار دیتے ہیں، تاہم ان کی گفتگو سے ایسا محسوس نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی جی والڈ سٹی کامران لاشاری نے استعفی کیوں دیا ؟
سینیئر وزیر نے کہا کہ سابق حکومت نے والڈ سٹی منصوبے کو نقصان پہنچایا جبکہ موجودہ حکومت اس کی بحالی پر کام کررہی ہے۔ ان کے مطابق سابق دور میں اس منصوبے کا بجٹ صرف 5 کروڑ روپے تھا، جبکہ موجودہ حکومت نے اس کے لیے 50 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ لاہور کے تاریخی 12 دروازوں میں سے 6 کی مکمل بحالی ہو چکی ہے جبکہ باقی 6 پر کام جاری ہے۔ مریم اورنگزیب نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ وہ والڈ سٹی کی موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرکے منصوبوں کی تفصیلات دیکھیں۔
انہوں نے کہا کہ مالی سال 2019-20 میں سیاحت کے شعبے کا بجٹ 1.4 ارب روپے تھا جس کا 70 فیصد حصہ تنخواہوں پر خرچ ہوتا تھا، جبکہ سابق حکومت کے 4 سالہ دور کا مجموعی بجٹ 4.5 ارب روپے رہا۔ ان کے بقول آج محکمہ سیاحت 46 ارب روپے کے منصوبوں پر کام کررہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کے تاریخی ورثہ کی بحالی میں نوازشریف کی دلچسپی
مریم اورنگزیب نے کہا کہ اپوزیشن نے ایک گھنٹے تک ایوان کا وقت ضائع کیا لیکن اپنے دور حکومت کا ایک بھی نمایاں منصوبہ نہیں بتا سکی۔ انہوں نے کہا کہ والڈ سٹی بل میں مجوزہ ترامیم پیش کرنے والے ارکان کو خود بل کے مندرجات کا علم نہیں۔
سینیئر وزیر کا کہنا تھا کہ بل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مستقبل میں کوئی نااہل حکومت والڈ سٹی منصوبے کے ساتھ کھلواڑ نہ کر سکے۔ انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ تنقید ضرور کریں لیکن حقائق کو تسلیم کریں اور غلط بیانی سے گریز کریں۔
مریم اورنگزیب کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان کی جانب سے مسلسل نعرے بازی بھی کی گئی، تاہم سینئر وزیر نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے اپوزیشن کو اپنے دورِ حکومت کی کارکردگی پر جواب دینے کا چیلنج دیا۔












