پاکستان کی قیمتی ’ ٹراؤٹ مچھلی ‘ کی نسل کم کیوں ہوتی جا رہی ہے؟ اہم وجوہات سامنے آگئیں

بدھ 10 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقے گلگت بلتستان میں پائی جانے والی قیمتی ٹراؤٹ مچھلی کی آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے، جس کی بڑی وجوہات موسمیاتی تبدیلی، قدرتی مساکن کی تباہی اور حد سے زیادہ ماہی گیری بتائی جا رہی ہیں۔

یہ خطہ اپنی بلند و بالا پہاڑی چوٹیوں، گلیشیئرز اور صاف شفاف جھیلوں کے باعث مشہور ہے، جہاں برفانی پانی ٹراؤٹ کی افزائش کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق گزشتہ 2 دہائیوں میں اس مچھلی کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور افزائشی مقامات کی تباہی

ورلڈ وائلڈ فنڈ فار نیچر پاکستان کے عہدیدار فراست علی نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث آنے والے اچانک سیلاب ٹراؤٹ کی افزائش کے مقامات کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں، کیونکہ ان سیلابی ریلوں سے دریاؤں کے کناروں پر موجود ریت، بجری اور پتھر اپنی ساخت بدل لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پشاور کے سب سے بڑے افطار دسترخوان کا مینیو: مچھلی، چھوٹا گوشت، پلاؤ، مگر یہ سب ممکن کیسے ہوتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ اگرچہ کئی ندیاں اور دریا ابھی بھی نسبتاً بہتر حالت میں ہیں، لیکن غیر قانونی ماہی گیری جیسے بارود، جال اور بجلی کے جھٹکوں کے ذریعے شکار ٹراؤٹ کی آبادی کے لیے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

عنایت علی، جو گلگت بلتستان محکمہ فشریز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہیں، کے مطابق بار بار آنے والے سیلاب، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ نے پانی کے معیار کو خراب کر دیا ہے، جس سے مچھلی کی افزائش متاثر ہو رہی ہے۔

ہائیڈرو پاور منصوبے اور ہجرت میں رکاوٹ

ماہرین کے مطابق ہائیڈرو پاور منصوبے بھی ٹراؤٹ کی قدرتی ہجرت کے راستوں میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔ چونکہ ٹراؤٹ افزائش کے لیے اوپر کی طرف ہجرت کرتی ہے، اس لیے ایسے منصوبے جن میں مچھلیوں کی آمد و رفت کے لیے راستے موجود نہیں ہوتے، وہ پوری نسلوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

حد سے زیادہ ماہی گیری اور مچھلی کے سائز میں کمی

ماہرین کا کہنا ہے کہ نہ صرف ٹراؤٹ کی تعداد کم ہو رہی ہے بلکہ اس کا اوسط سائز بھی گھٹ گیا ہے۔ عنایت علی کے مطابق آج کل ایک کلوگرام سے بڑی ٹراؤٹ مچھلی بہت کم ملتی ہے، جبکہ 10 سال پہلے 2 کلوگرام یا اس سے بڑی مچھلی عام تھی۔

ان کے مطابق بہتر سڑکوں اور ٹرانسپورٹ نظام کی وجہ سے دور دراز علاقوں تک رسائی آسان ہو گئی ہے، جس سے تجارتی ماہی گیری میں اضافہ ہوا ہے۔

خادم حسین، جو محکمہ تحفظ ماحولیات کے عہدیدار ہیں، نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سڑکوں کی بہتری نے غیر قانونی اور تجارتی ماہی گیری کو فروغ دیا ہے۔

ٹراؤٹ کا تاریخی پس منظر

ٹراؤٹ مچھلی اس خطے کی مقامی نسل نہیں بلکہ اسے برطانوی نوآبادیاتی دور میں یہاں متعارف کرایا گیا تھا۔ اس وقت گلگت بلتستان میں ٹراؤٹ کی 2 اقسام پائی جاتی ہیں، براؤن ٹراؤٹ اور رینبو ٹراؤٹ، جن میں براؤن ٹراؤٹ زیادہ پائی جاتی ہے۔

مشہور ضلع غذر کو ٹراؤٹ کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ سرکاری قوانین کے مطابق اکتوبر سے مارچ تک ماہی گیری پر پابندی ہوتی ہے، تاہم اس کی خلاف ورزیاں بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔

ٹراؤٹ فارمنگ میں تیزی سے اضافہ

اگرچہ قدرتی آبی ذخائر میں ٹراؤٹ کم ہو رہی ہے، لیکن دوسری جانب اس کی فارمنگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ حکام کے مطابق چند سال پہلے تک جہاں سو سے کچھ زیادہ فارم تھے، اب ان کی تعداد 450 سے تجاوز کر چکی ہے اور یہ سالانہ تقریباً 600 ٹن ٹراؤٹ پیدا کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:اسکردو کی قیمتی ٹراؤٹ مچھلی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی زد میں

معاذ عالم کے مطابق وہ 2017 سے اپنے فارم کے ذریعے اسلام آباد، لاہور اور پشاور سمیت مختلف شہروں کو سالانہ 10 ٹن مچھلی فراہم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس کاروبار میں 80 سے 100 فیصد تک منافع ممکن ہے اور ملک بھر میں ٹراؤٹ کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔

تحفظ اور حل کی تجاویز

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ ٹراؤٹ کی آبادی بچانے کے لیے کمیونٹی کی سطح پر تحفظ کے اقدامات اور پائیدار ماہی گیری کے پروگرام ضروری ہیں۔

فراست علی نے تجویز دی ہے کہ ٹراؤٹ کے لیے بھی اسی طرز کے پروگرام متعارف کرائے جائیں جیسے جنگلی جانور مارخور کے لیے کامیاب ٹرافی ہنٹنگ ماڈل کے تحت چلائے جا رہے ہیں۔

ان کے مطابق ایسے ماڈلز سے نہ صرف ماحول کا تحفظ ممکن ہوگا بلکہ مقامی آبادی کے لیے آمدن اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا نے ویزا روکا، صومالی عوام نے دلوں کے دروازے کھول دیے، فٹبال ریفری عمرآرتان کا واپس وطن پہنچنے پر بادشاہوں جیسا استقبال

تھرپارکر: اونٹنی کی آنکھیں نکالنے کا واقعہ، 2 ملزمان گرفتار

ذہنی سکون کا راز کن چیزوں میں پوشیدہ؟ اسلام اور سائنس کی روشنی میں جانیے

پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کو حادثہ، تمام اہلکار شہید، کشمیر میں احتجاج کی آڑ میں بھارت سے رابطے بے نقاب

کلمے کے نام پر بننے والے ملک کی مخالفت اسلام کے خلاف، مسلح جدوجہد حرام ہے : مفتی محمد کریم خان

ویڈیو

ذہنی سکون کا راز کن چیزوں میں پوشیدہ؟ اسلام اور سائنس کی روشنی میں جانیے

پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کو حادثہ، تمام اہلکار شہید، کشمیر میں احتجاج کی آڑ میں بھارت سے رابطے بے نقاب

کلمے کے نام پر بننے والے ملک کی مخالفت اسلام کے خلاف، مسلح جدوجہد حرام ہے : مفتی محمد کریم خان

کالم / تجزیہ

’سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن ہے‘

چاچا کرکٹ صرف تماشائی نہیں تھا

میں انس عبیداللہ عابد کے جنازے میں کیوں نہیں گیا؟