تنزانیہ میں مویشیوں کی ہلاکت کے بعد ماسائی خواتین نے خشک سالی برداشت کرنے والی چارہ گھاس کو کاروبار بنالیا، سینکڑوں خاندانوں کی معیشت سنبھلنے لگی۔
تنزانیہ کے شمالی علاقوں میں جہاں مسلسل خشک سالی نے روایتی چرواہا زندگی کو شدید متاثر کیا، وہاں ماسائی خواتین نے حالات کے آگے ہتھیار ڈالنے کے بجائے ایک نئی راہ نکال لی۔
مویشیوں کے لیے چارہ اُگانے کا کام، جو کبھی صرف جانوروں کو زندہ رکھنے کی کوشش سمجھا جاتا تھا، آج ایک منافع بخش کاروبار اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی بن چکا ہے۔
مزید پڑھیں:بجٹ 27-2026 میں خواتین کے لیے کیا ریلیف متوقع ہے؟
شمالی تنزانیہ کے گاؤں سیلیلا سے تعلق رکھنے والی 30 سالہ 4 بچوں کی ماں نیسیرکار لونگیدونگئی اُن خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے مشکل حالات کو موقع میں بدل دیا۔ وہ بتاتی ہیں کہ شدید خشک سالی کے دوران ان کے خاندان کے بیشتر بکریاں اور دیگر مویشی ہلاک ہوگئے تھے، جس کے بعد زندگی گزارنے کے ذرائع قریباً ختم ہو چکے تھے۔

نیسیرکار کے مطابق انہوں نے خشک سالی برداشت کرنے والی چارہ گھاس اُگانا شروع کی، جس کے بعد نہ صرف ان کے معاشی حالات بہتر ہوئے بلکہ اب وہ اپنے بچوں کی کفالت بھی باعزت انداز میں کر رہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مختلف دیہات کے لوگ ان سے گھاس خریدنے آتے ہیں اور اب انہیں خشک سالی کا پہلے جیسا خوف نہیں رہا۔ اس آمدنی سے وہ ایک نیا گھر تعمیر کر چکی ہیں اور دوبارہ بکریاں پالنا بھی شروع کر دیا ہے۔
یہ تبدیلی صرف ایک خاتون تک محدود نہیں۔ شمالی تنزانیہ میں قریباً 4 لاکھ 30 ہزار افراد پر مشتمل ماسائی برادری کی سینکڑوں خواتین اب چارہ گھاس کی پیداوار کو ایک باقاعدہ کاروبار کی شکل دے رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: ‘شی تھریڈز’ منصوبہ، دیہی خواتین کو ٹیکسٹائل شعبے میں ہنرمند اور خودمختار بنانے کا اقدام
اس عمل کی نگرانی خواتین کی تنظیم ’پاسٹورل ویمنز کونسل‘(PWC) کر رہی ہے، جو 1997 میں قائم ہوئی تھی اور آج 90 دیہات میں قریباً 6 ہزار 500 خواتین ارکان پر مشتمل ایک مضبوط نیٹ ورک بن چکی ہے۔
تنزانیہ کی وزارتِ مویشی و ماہی گیری کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2021 سے جنوری 2022 کے درمیان طویل خشک سالی کے باعث 3 لاکھ سے زائد مویشی ہلاک ہوئے تھے، جن میں گائیں، بکریاں، بھیڑیں اور گدھے شامل تھے۔ صرف سمانجیرو ضلع میں 92 ہزار سے زائد جانور مر گئے، جس سے ہزاروں خاندانوں کی معیشت تباہ ہوگئی۔
اس بحران کے جواب میں پاسٹورل ویمنز کونسل نے مونڈولی اور لونگیدو اضلاع کے 8 دیہات میں گھاس کے بیجوں کے 10 بڑے ذخائر قائم کیے۔ اس وقت قریباً 75 ہیکٹر رقبے پر چارہ گھاس کی کاشت کی جا رہی ہے جبکہ مزید 37 ہیکٹر زمین آئندہ سیزن میں شامل کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ قریباً 250 خواتین براہِ راست ان منصوبوں کا انتظام سنبھال رہی ہیں جبکہ ہزاروں چرواہے خشک موسم میں انہی فارموں سے چارہ حاصل کرتے ہیں۔
خواتین کی جانب سے رُوڈز گراس اور ماسائی لوو گراس جیسی ایسی اقسام اُگائی جاتی ہیں جو کم بارش میں بھی زیادہ دیر تک سرسبز رہتی ہیں۔ فصل کی کٹائی کے بعد گھاس کے گٹھے تیار کرکے مقامی چرواہوں کو فروخت کیے جاتے ہیں، جبکہ بیج بھی محفوظ کر کے بعد میں فروخت کیے جاتے ہیں جب ان کی طلب بڑھ جاتی ہے۔

اس منصوبے کے معاشی فوائد بھی نمایاں ہیں۔ 2025 کے دوران ایک بیج بینک نے قریباً 66 لاکھ تنزانیائی شلنگ آمدنی حاصل کی، جبکہ ایک ہزار سے زائد گھاس کے گٹھے بھی فروخت کیے گئے۔ اس آمدنی نے کئی خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیں: خواتین کے خلاف منظم امتیازی نظام، اقوامِ متحدہ میں طالبان حکومت پر شدید تنقید
پاسٹورل ویمنز کونسل کی بانی رکن ریچل لیٹیٹی کا کہنا ہے کہ جو خواتین پہلے مکمل طور پر اپنے شوہروں پر انحصار کرتی تھیں، آج ان کی اپنی آمدنی ہے۔ اس سے نہ صرف گھریلو استحکام بڑھا ہے بلکہ مرد بھی خواتین کے کردار اور محنت کی قدر کرنے لگے ہیں، خصوصاً خشک سالی کے دنوں میں۔
تاہم اس کامیابی کے باوجود چیلنجز بدستور موجود ہیں۔ خواتین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات جڑی بوٹیاں اور نقصان دہ پودے فصل کو تباہ کر دیتے ہیں، جبکہ ٹوٹی ہوئی باڑوں سے مویشی یا جنگلی جانور کھیتوں میں داخل ہو کر نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض گروپوں میں ذمہ داریوں اور منافع کی تقسیم پر اختلافات بھی سامنے آتے ہیں۔
اس وقت جسٹ ڈگ اٹ، ٹریز فار دی فیوچر اور سوئس ایڈ جیسی تنظیموں کی مدد سے قریباً 200 خواتین براہِ راست اس منصوبے میں شامل ہیں، جبکہ ہزاروں افراد بالواسطہ طور پر اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
نائریامو لائزر، جو تین بچوں کی ماں اور ایک مقامی گروپ کی سیکریٹری ہیں، کہتی ہیں کہ یہ کام نہ صرف مویشیوں کو زندہ رکھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ خاندانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ ان کے مطابق اگر مزید خواتین اس شعبے سے وابستہ ہو جائیں تو پورے علاقے کی معیشت مضبوط ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: افغانستان: لباس کے ضوابط پر عمل نہ کرنے کے الزام میں خواتین کی گرفتاریاں، اقوام متحدہ کا اظہار تشویش
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ علاقوں میں ماسائی خواتین کا یہ ماڈل ایک کامیاب مثال بن کر ابھر رہا ہے، جو ثابت کرتا ہے کہ مقامی سطح پر اختیار کیے گئے پائیدار حل نہ صرف ماحول بلکہ معاشی استحکام کے لیے بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
شمالی تنزانیہ کی ان خواتین کے لیے چارہ گھاس کی کاشت اب صرف بقا کی جنگ نہیں رہی بلکہ خود اعتمادی، معاشی آزادی اور ایک بہتر مستقبل کی ضمانت بن چکی ہے۔ ان کے مطابق اب خواتین صرف گھر سنبھالنے والی نہیں بلکہ خاندان کی کفالت میں برابر کی شریک بھی بن چکی ہیں۔














