بھارت کے شہر احمد آباد میں ایئر انڈیا کی پرواز 171 کے المناک حادثے کو ایک سال گزر چکا ہے، مگر اس سانحے سے متاثر ہونے والے خاندان آج بھی اپنے پیاروں کی جدائی کے غم، انصاف کی تلاش اور غیر یقینی مستقبل کے بوجھ تلے زندگی گزار رہے ہیں۔
احمد آباد کے علاقے میگھانی نگر میں رہنے والی سیتا پٹنی آج بھی اپنے 14 سالہ بیٹے آکاش کی یاد میں اشک بہاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایئرانڈیا کے طیارے کو حادثہ کیوں پیش آیا؟ تحقیقات میں اہم پیشرفت
حادثے کے روز وہ اپنے چائے کے چھوٹے سے اسٹال پر موجود تھیں جبکہ ان کا بیٹا آکاش معمول کے برعکس گھر واپس جانے کے بجائے اسٹال کے قریب ہی آرام کرنے پر اصرار کر رہا تھا۔
12 جون 2025 کو دوپہر ایک بج کر 39 منٹ پر اچانک ایک زوردار دھماکے نے علاقے کو لرزا دیا۔

لندن جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز ٹیک آف کے فوراً بعد قریبی ہاسٹل پر گر گئی جبکہ طیارے کا جلتا ہوا حصہ سیتا کے اسٹال پر آ گرا، جہاں آکاش سو رہا تھا۔
بیٹے کو بچانے کی کوشش میں سیتا خود بھی شدید جھلس گئیں، تاہم آکاش جانبر نہ ہو سکا۔
مزید پڑھیں: احمد آباد ایئر انڈیا حادثہ، طیارے کے انجن بند ہونے کی وجہ سامنے آ گئی
اس حادثے میں مجموعی طور پر 259 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 241 مسافر اور عملے کے ارکان جبکہ 18 افراد زمین پر موجود تھے۔
دوسری جانب احمد آباد سے تقریباً 150 کلومیٹر دور رہنے والے سلیم پٹیل کے لیے بھی یہ سانحہ ناقابلِ فراموش ہے۔

حادثے سے ایک روز قبل ان کے 25 سالہ بیٹے ساحل پٹیل کو برطانیہ کے ’انڈیا ینگ پروفیشنلز اسکیم‘ کے تحت 2 سالہ ورک ویزا ملا تھا، جسے خاندان اپنی قسمت بدلنے کا ذریعہ سمجھ رہا تھا۔
تاہم ساحل اسی بدقسمت پرواز میں سوار تھا جو حادثے کا شکار ہو گئی، سلیم پٹیل کا کہنا ہے کہ جس ویزا نے ان کے خاندان کو خوشی دی تھی، وہی ان کے بیٹے کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہوا۔
مزید پڑھیں: ایئر انڈیا حادثہ، بدقسمت خاندان کی آخری سیلفی وائرل
انہوں نے حادثے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے سانحات کے ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے تاکہ مستقبل میں قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
سلیم پٹیل نے الزام لگایا کہ ایئر انڈیا اور اس کی مالک کمپنی ٹاٹا گروپ کے نمائندوں نے معاوضے کے حصول کے لیے مختلف دستاویزی شرائط عائد کیں، جس کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
😢📍SHOCKING :India's Deadliest Air Crash in Years. Despite 365 days, Still No Final Answers.
An Air India crash killed 260 people, including former Gujarat Chief Minister Vijay Rupani, medical students, doctors, passengers, crew members, and people on the ground.
A year later,… pic.twitter.com/yndakDlwKI
— Manu🇮🇳🇮🇳 (@mshahi0024) June 12, 2026
ان کا خاندان اب قانونی مدد کے لیے امریکا میں قائم ایک لا فرم سے بھی رابطے میں ہے۔
ادھر لندن میں مقیم 28 سالہ محمد شیٹھ والا ایک اور کربناک صورتحال سے دوچار ہیں، ان کی اہلیہ صادقہ تاپیلی والا اور کمسن بیٹی فاطمہ بھارت میں ایک خاندانی تقریب میں شرکت کے بعد اسی پرواز کے ذریعے لندن واپس آ رہی تھیں، مگر دونوں حادثے میں جان کی بازی ہار گئیں۔
محمد شیٹھ والا نے بتایا کہ حادثے کی خبر ملنے کے بعد وہ فوری طور پر احمد آباد پہنچے اور کئی دن تک کسی معجزے کے انتظار میں رہے، مگر بالآخر انہیں اپنی اہلیہ اور بیٹی کی موت کی تصدیق مل گئی۔

غم سے نڈھال محمد شیٹھ والا کو بعد ازاں ایک اور دھچکا اس وقت لگا جب برطانیہ میں ان کے قیام کی قانونی حیثیت خطرے میں پڑ گئی۔
چونکہ وہ اپنی اہلیہ کے ویزا پر برطانیہ میں مقیم تھے، اس لیے اہلیہ کی وفات کے بعد انہیں ملک چھوڑنے کا نوٹس موصول ہوا۔
انہوں نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے اور اب تک قانونی کارروائی پر ہزاروں ڈالر خرچ کر چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایئر انڈیا طیارہ حادثہ: بھارت نے برطانوی خاندانوں کو غلط لاشیں بھیج دیں
ان کا کہنا ہے کہ وہ مستقل طور پر برطانیہ میں رہنے کے خواہش مند نہیں، تاہم چاہتے ہیں کہ ان کے امیگریشن ریکارڈ پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں تاکہ مستقبل میں یورپی ممالک کا سفر متاثر نہ ہو۔
ایک سال گزرنے کے باوجود ایئر انڈیا کے اس ہولناک حادثے کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے زخم ابھی تک مندمل نہیں ہو سکے، جبکہ بہت سے لوگ اب بھی انصاف، معاوضے اور جوابات کے منتظر ہیں۔














