فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی امریکی شہر لاس اینجلس میں فٹبال کا بخار چڑھ گیا ہے۔ امریکا اور پیراگوئے کے درمیان میچ سمیت 8 ورلڈ کپ مقابلوں کی میزبانی کرنے والے اس شہر میں شائقین غیر معمولی جوش و خروش کا اظہار کر رہے ہیں، تاہم مہنگے ٹکٹوں اور امریکی سفری و ویزا پالیسیوں پر تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ 2026: کن اسٹیڈیمز میں کتنے شائقین کی گنجائش موجود ہے؟
لاس اینجلس کے میکسیکو نژاد امریکی فٹبال شائقین جوآن کورٹیس نے اپنی ورکشاپ کے باہر امریکا اور میکسیکو کے جھنڈے آویزاں کر رکھے ہیں اور ورلڈ کپ کی واپسی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ٹکٹوں کی بلند قیمتوں کے باعث وہ ایک بھی میچ اسٹیڈیم میں جا کر نہیں دیکھ سکیں گے اور ٹی وی اسکرین پر ہی مقابلوں سے لطف اندوز ہوں گے۔
The U.S. opened its first home World Cup in 32 years with its biggest win in the tournament, a dynamic 4-1 victory over Paraguay on Friday night. https://t.co/jifLgbmoZt
— The Associated Press (@AP) June 13, 2026
شہر بھر میں دکانوں، ریستورانوں، بارز اور دیگر کاروباری مراکز پر مختلف ٹیموں کے جھنڈے لہرا رہے ہیں جبکہ ساحلی علاقے وینس بیچ سمیت مختلف مقامات پر شائقین کی بڑی تعداد میچز دیکھنے کے لیے جمع ہو رہی ہے۔
کئی مداحوں نے الزام عائد کیا کہ منتظمین نے کھیل کے حقیقی شائقین کی بجائے منافع کو ترجیح دی ہے، جس کے باعث عام فٹبال شائقین کے لیے میچز دیکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ بعض شائقین نے اسے ’طبقاتی مسئلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف مالی طور پر مضبوط افراد ہی اسٹیڈیم تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ 2026: میٹا نے انسٹاگرام، واٹس ایپ اور فیس بک کے نئے فیچرز متعارف کرا دیے
دوسری جانب امریکی ویزا اور سفری پابندیاں بھی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ مختلف ممالک کے شائقین اور بعض کھلاڑیوں کو امریکا میں داخلے کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ایرانی ٹیم نے بھی اپنے قیام کے لیے امریکا کے بجائے میکسیکو کو بیس کیمپ بنایا ہے اور وہ صرف میچز کے لیے امریکا آئے گی۔

اس کے باوجود لاس اینجلس میں ورلڈ کپ کا جوش و خروش عروج پر ہے اور شائقین کو امید ہے کہ یہ ٹورنامنٹ یادگار مقابلوں اور سنسنی خیز فٹبال کے باعث تاریخ میں اپنا منفرد مقام بنائے گا۔














