امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پاگیا ہے اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کی تصدیق بھی کردی۔ یہ معاہدہ پاکستان کی جانب سے ثالثی کی مسلسل کوششوں کے سبب عمل میں آیا اور اس مقصد کے لیے دنیا کے کئی ممالک خصوصاً سعودی عرب، ترکیہ اور قطر نے خصوصی ساتھ دیا۔ گزشتہ روز قطر کا اعلیٰ سطحی وفد تہران پہنچا اور مذاکراتی عمل کو حتمی شکل میں مصروف رہا۔
اس تمام عمل میں پاکستان ایک اہم ثالثی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے، جس نے گزشتہ چند ماہ کے دوران واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی حملے کے باعث امریکا ایران معاہدے پر دستخط کی تقریب اب کچھ گھنٹوں بعد ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
پاکستان کی یہ بڑی سفارتی کامیابی ہے، جلیل عباس جیلانی
سابق وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے دونوں ممالک کے درمیان طے ہونے والے معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے اور دنیا کے لیے یہ بڑی کامیابی ہے۔
جلیل عباس جیلانی نے کہاکہ پاکستان نے اس پورے عمل میں نہایت اہم اور تعمیری کردار ادا کیا ہے، ان کے بقول اسلام آباد نے مختلف فریقین کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے اور مذاکرات کے ماحول کو سازگار بنانے کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کیں، جبکہ امن عمل کے حوالے سے موجود شکوک و شبہات کے باوجود اپنی مثبت کاوشیں جاری رکھیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کے ذمہ دارانہ اور متوازن کردار کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، جس سے ایک ذمہ دار اور مؤثر مڈل پاور کے طور پر پاکستان کی سفارتی ساکھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔
ان کے مطابق اس معاہدے کے مثبت اثرات نہ صرف خطے بلکہ پاکستان کے لیے بھی اہم ہوں گے۔
جلیل عباس جیلانی کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی اور سیکیورٹی تعاون میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ امریکا کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی و عالمی امور پر تعاون کے نئے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہاکہ خطے میں کشیدگی میں کمی سے پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ ملے گا، جبکہ جنوبی ایشیا کے بعض ممالک بھی پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید وسعت دینے میں دلچسپی لے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سفارتی کوششوں کی کامیابی نہ صرف خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے بلکہ پاکستان کے لیے بھی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے، جس سے عالمی سطح پر اس کے مثبت اور ذمہ دارانہ کردار کو مزید تقویت ملے گی۔
معاہدہ اس لیے ہوسکا کیونکہ بات چیت کا دروازہ کبھی مستقل بند نہیں ہوا، مسعود خالد
سابق سفارتکار مسعود خالد کا کہنا ہے سفارتی رابطوں کا جاری رہنا اور مذاکراتی عمل کا برقرار رہنا ایک مثبت پیشرفت ہے، اور یہ معاہدہ اسی لیے ممکن ہوسکا کہ بات چیت کا دروازہ کبھی مستقل بند نہیں ہوا۔
مسعود خالد کے مطابق پاکستان نے حالیہ مہینوں میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کا ماحول برقرار رکھنے کے لیے متحرک سفارتی کردار ادا کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلسل کوششوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا اور مذاکرات کا دروازہ کھلا رہا، جو بذاتِ خود ایک اہم کامیابی ہے۔
انہوں نے کہاکہ معاہدے کا طے پانا پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے اور اس سے نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ مضبوط ہوگی بلکہ اسلام آباد کو ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کے طور پر بھی دیکھا جائے گا۔
ان کے مطابق پاکستان کی اس مثبت سفارتی کاوش کو عالمی برادری نے بھی سراہا ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل میں پاکستان کے مؤقف اور سفارتی ترجیحات کو بین الاقوامی سطح پر زیادہ پذیرائی مل سکتی ہے۔
مسعود خالد کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے کے ممالک کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے چاہییں۔ ان کے بقول پائیدار امن اور استحکام ہی وہ بنیاد ہے جس پر علاقائی ترقی اور اقتصادی خوشحالی کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے، اور پاکستان کا تعمیری سفارتی کردار اس عمل کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان معاملہ حساس اور پیچیدہ معاملہ تھا، فیضان ریاض
انٹرنیشنل پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ایسوسی ایٹ فیضان ریاض کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ اس قدر حساس موضوع اور پیچیدہ معاملہ تھا جس کے بارے میں کسی مخصوص دن یا وقت کو حتمی قرار دینا ممکن نہیں تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے معاملات میں وقت درکار ہوتا ہے کیونکہ فریقین کو نہ صرف سیاسی بلکہ سیکیورٹی اور تزویراتی نوعیت کے متعدد نکات پر بھی اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوتا ہے، تاہم مثبت پہلو یہ ہے کہ تمام تر کشیدگی کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت کا راستہ کھلا رہا اور اس میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کا اہم کردار رہا ہے۔ پاکستان گزشتہ کئی ماہ سے مختلف سطحوں پر رابطوں کو برقرار رکھنے اور فریقین کو مذاکراتی عمل سے جوڑے رکھنے کے لیے سرگرم ہے۔
ان کے مطابق یہ پاکستان کی مسلسل سفارتی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے اور معاملہ حتمی مرحلے تک پہنچ گیا
پاکستان کی معاہدے کے لیے ہر ممکن کوششیں
فیضان ریاض کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی مسلسل یہی خواہش رہی کہ خطے میں کشیدگی کم ہو، تنازع مزید نہ بڑھے اور مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی پالیسی شروع دن سے یہی رہی ہے کہ تصادم کے بجائے مکالمے کو فروغ دیا جائے اور تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر رکھا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ معاہدے کا ہوجانا بذاتِ خود ایک اہم سفارتی کامیابی ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل، پاکستان کی کامیاب سفارتکاری نے دنیا کو بڑی مشکل سے بچا لیا
فیضان ریاض کے مطابق پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی فارمولے پر اتفاق پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے جو نہ صرف اس کے بین الاقوامی تشخص کو مضبوط کرے گی بلکہ اسے ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کے طور پر بھی نمایاں کرے گی۔
امریکا ایران تنازع کے دوران پاکستان اہم ثالث اور رابطہ کار کے طور پر سامنے آیا
جہاں تک پاکستان کے کردار کا تعلق ہے، پاکستان اس پورے عمل میں ایک اہم ثالث اور رابطہ کار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اسلام آباد نے نہ صرف ابتدائی جنگ بندی کی کوششوں میں کردار ادا کیا بلکہ امریکا، ایران، قطر، ترکیہ اور دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے بھی برقرار رکھے۔














