امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ابتدائی امن معاہدے کی خبر کے بعد امریکی ڈالر اپنی بڑی حریف کرنسیوں کے مقابلے میں 10 روز کی کم ترین سطح پر آ گیا، جبکہ سرمایہ کاروں نے نسبتاً زیادہ خطرے والے اثاثوں کا رخ کرنا شروع کر دیا۔
امریکی اور ایرانی حکام نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ دونوں ممالک جنگ کے خاتمے، ایران پر امریکی ناکہ بندی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس پیشرفت کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی اور برینٹ کروڈ 4 فیصد سے زائد گر کر 83.82 ڈالر فی بیرل تک آ گیا۔
مزید پڑھیں:اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 25 ملین ڈالر کا اضافہ
کرنسی مارکیٹ میں یورو 0.35 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1607 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ 0.3 فیصد بڑھ کر 1.3448 ڈالر تک پہنچ گیا۔ آسٹریلوی ڈالر میں 0.5 فیصد اور نیوزی لینڈ ڈالر میں 0.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی قدر کو دیگر بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، 0.31 فیصد کمی کے بعد 99.492 پوائنٹس پر آ گیا، جو 5 جون کے بعد کم ترین سطح ہے۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق جغرافیائی کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے، تاہم مارکیٹ اب بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے کیونکہ معاہدے کی مکمل کامیابی اور تیل کی سپلائی کی بحالی میں وقت لگ سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ حتمی جوہری معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کر سکتا ہے، جس کے باعث سرمایہ کار صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مجموعی حجم 22.67 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، اسٹیٹ بینک
ادھر جاپانی ین 160 فی ڈالر کی سطح کے قریب برقرار رہا، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ جاپان کا مرکزی بینک 16 جون کو ختم ہونے والے اپنے اجلاس میں شرح سود 31 سال کی بلند ترین سطح تک لے جانے کا اعلان کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امن معاہدے کی خبر نے ڈالر پر دباؤ بڑھایا ہے، تاہم آنے والے دنوں میں سرمایہ کار آبنائے ہرمز کی عملی بحالی، تیل کی ترسیل کی رفتار اور امریکا۔ایران مذاکرات کی پیش رفت کا انتظار کریں گے، جس کے بعد ہی کرنسی مارکیٹ کا اگلا رخ واضح ہو سکے گا۔














