قیام امن میں سعودی عرب کا قائدانہ کردار، تحمل اور سفارتکاری نے خطے کو بڑی جنگ سے بچالیا

بدھ 17 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

15 جون کی رات تقریباً ڈھائی بجے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ایکس پیغام کے ذریعے دنیا کو آگاہ کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے اس پیشرفت کو خطے میں کشیدگی میں کمی کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا اور اس عمل میں کردار ادا کرنے والے مختلف ممالک خصوصاً سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا فریم ورک معاہدہ کیا ہے اور آئندہ ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں کیا طے ہو گا؟

وزیراعظم نے خصوصاً سعودی عرب کی قیادت کو سراہتے ہوئے اس کے ’ویژنری کردار‘ اور مؤثر سفارتکاری کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق اس معاہدے کی کامیابی میں سعودی عرب کی سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ اس کے تحمل اور ذمہ دارانہ رویے نے بھی اہم کردار ادا کیا جس کے باعث نہ صرف صورتحال مزید بگڑنے سے بچی بلکہ ممکنہ طور پر جنگ کے دائرے کو پھیلنے سے بھی روکا جا سکا۔

گزشتہ روز 15 جون کو سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے حالیہ امن معاہدے کو خوش آئند قرار دیا۔ گفتگو کے دوران سعودی وزیر خارجہ نے اس پیش رفت کو خطے اور دنیا میں امن و استحکام کی جانب ایک مثبت اور اہم قدم قرار دیا۔

اس سے قبل وزارت خارجہ سعودی عرب کی جانب سے بھی باضابطہ بیان جاری کیا گیا تھا جس میں اس معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی میں کمی اور پائیدار امن کی کوششوں کے لیے حوصلہ افزا پیشرفت قرار دیا گیا۔

مزید پڑھیے: ایران امریکا معاہدے سے پاکستان کا وقار بلند ہوا، یومِ تشکر منائیں گے، طارق فضل چوہدری

سعودی عرب اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی اور امن کی جانب پیشرفت سے قبل دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان مختلف سطحوں پر متعدد رابطے ہو چکے تھے۔ ان رابطوں کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنا تھا۔

ایران کی جانب سے بعض حملوں کی مذمت خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے پلیٹ فارم سے بھی کی گئی جبکہ پاکستان کے ذریعے بھی ایران تک اپنے سفارتی تحفظات پہنچائے گئے۔ تاہم ان تمام سفارتی کوششوں کے دوران سعودی عرب نے مسلسل فوجی ردعمل سے گریز کیا اور تحمل و برداشت کی پالیسی اپنائے رکھی۔

سعودی تحمل نے جنگ کو پھیلنے سے روکا

25 مارچ کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے غیر معمولی تحمل کو سراہا اور پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

28 فروری سے شروع ہونے والی اس کشیدگی کے دوران قطر، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کو بھی متعدد بار نشانہ بنایا گیا۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق اس عرصے میں سعودی عرب پر 470 سے زائد میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے جبکہ اس کے قریبی اتحادی ممالک بھی ان حملوں کی زد میں آئے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم اور فیلڈ مارشل ایران امریکا تنازع حل کرانے کے لیے کوشاں ہیں، کامیابی کے لیے دعاگو ہوں، بلاول بھٹو

اگرچہ سعودی عرب ایک مضبوط بری اور فضائی دفاعی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے اس کے باوجود اس نے جوابی کارروائی کے بجائے صبر و تحمل کا راستہ اختیار کیا جس سے صورتحال کے بڑے پیمانے پر جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے میں مدد ملی۔ اس پورے عرصے میں پاکستان نے بھی خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سطح پر کردار ادا کیا تاہم مجموعی طور پر سعودی عرب کا تحمل اور ذمہ دارانہ رویہ خطے کے استحکام میں بنیادی عنصر ثابت ہوا۔

سعودی عرب کی عالمی امن کے لیے کوششیں

عالمی امن اور معیشت دونوں کو متاثر کرنے والے امریکا اور ایران تنازعے کے پرامن حل کے لیے سعودی عرب کی سفارتی کوششیں مختلف سطحوں پر سامنے آتی رہی ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کا اجلاس 29 اور 30 مارچ کو اسلام آباد میں منعقد ہوا جس کے بعد ایک مشترکہ امن فارمولا تشکیل دیا گیا جسے بعد ازاں چین کی حمایت بھی حاصل ہوئی۔

گزشتہ سال فروری میں سعودی عرب نے یوکرین بحران پر امریکا اور روس کے درمیان مذاکرات کی میزبانی بھی کی جبکہ فلسطین میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے بھی سعودی سفارتکاری نے نمایاں کردار ادا کیا۔ ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی قیادت کے مشترکہ وژن کے تحت غزہ میں جنگ بندی کی جانب پیشرفت ہوئی جبکہ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان فوجی کشیدگی کم کرانے میں بھی سعودی عرب کا کردار اہم رہا۔ دسمبر 2025 میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان غیر رسمی امن مذاکرات بھی سعودی عرب ہی میں منعقد ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات میں نئی وسعت، اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہونے کی توقع

موجودہ سعودی قیادت، خصوصاً وژن 2030 کے تناظر میں نہ صرف خطے میں مصالحتی کردار ادا کر رہی ہے بلکہ معاشی اور سفارتی قیادت کے میدان میں بھی فعال ہے۔

فلسطین کے مسئلے پر سعودی منصوبہ

فلسطین اور اسرائیل تنازع کے حل کے لیے سعودی عرب نے سنہ 2002 میں عرب امن انیشی ایٹ  پیش کیا جو آج بھی سعودی خارجہ پالیسی کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ اس منصوبے کو عرب لیگ کی حمایت حاصل تھی جس کے تحت اسرائیل سے مقبوضہ عرب علاقے خالی کرنے اور فلسطینی مہاجرین کے مسئلے کے حل کے بدلے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم اس منصوبے کو اسرائیل نے مسترد کر دیا۔

سعودی عرب کی پالیسی میں تبدیلی اور سفارتی حکمت عملی

سنہ2023  میں سعودی عرب نے ایران کے ساتھ برسوں سے منجمد تعلقات دوبارہ بحال کیے جس میں چین نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ یہ فیصلہ سعودی عرب کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ تھا جس کا مقصد تصادم کے بجائے مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل حل کرنا تھا۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کا لبنان کے لیے بڑا فیصلہ، 5 سال بعد برآمدات بحال کرنے کا حکم

اس سے قبل 2021 میں سعودی عرب نے قطر کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی راہ ہموار کی اور شام کو دوبارہ عرب لیگ میں شامل کرنے کی حمایت کی تاکہ خطے میں ایک مربوط اور متوازن سفارتی ڈھانچہ تشکیل دیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp