سعودی عرب نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور امن معاہدے تک پہنچنے میں پاکستان اور قطر کی ثالثی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کے کردار کی تعریف کی ہے۔
سعودی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ کابینہ نے امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور مستقل معاہدے کے لیے تفصیلی مذاکرات شروع کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ سعودی عرب نے اس پیشرفت میں پاکستان اور قطر کی جانب سے کی جانے والی سفارتی اور ثالثی کوششوں کو قابلِ قدر قرار دیا۔
مزید پڑھیں: قیام امن میں سعودی عرب کا قائدانہ کردار، تحمل اور سفارتکاری نے خطے کو بڑی جنگ سے بچالیا
سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق اجلاس کی صدارت سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان نے کی۔ کابینہ نے امید ظاہر کی کہ یہ عمل خطے میں پائیدار امن کے قیام اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مکمل بحالی کا باعث بنے گا، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔
سعودی بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے بعد ایرانی تیل کی برآمدات بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل بتدریج معمول پر آ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے کے لیے جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کا نیا دور شروع ہونے کا امکان ہے، جس میں ایران کے جوہری پروگرام اور بین الاقوامی پابندیوں میں ممکنہ نرمی سمیت اہم امور پر بات چیت ہوگی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جوہری معاملات اور پابندیوں کے خاتمے سے متعلق فیصلے آئندہ مذاکرات میں کیے جائیں گے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلا ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات میں نئی وسعت، اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہونے کی توقع
دوسری جانب پاکستانی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کی راہ ہموار نہ کی ہوتی تو مسلم دنیا کے اندر ایک بڑے تنازع کا خطرہ پیدا ہو سکتا تھا۔
حکام کے مطابق پاکستان کا مقصد صرف مذاکرات کو کامیاب بنانا تھا اور اسی لیے ثالثی کی کوششوں کو خاموش سفارت کاری کے ذریعے آگے بڑھایا گیا، نہ کہ تشہیر یا سیاسی فائدے کے لیے۔














