ایپل کے سبکدوش ہونے والے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹم کک نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث میموری چپس کی عالمی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں کمپنی کے لیے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔
ایک انٹرویو میں ٹم کک نے کہا کہ ایپل اب تک صارفین کو قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے تاہم موجودہ صورتحال میں یہ حکمت عملی مزید برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی فون 18 اس سال نہیں آئے گا؟ ایپل کی نئی حکمتِ عملی نے صارفین کو چونکا دیا
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے۔ ہم نے صارفین کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن اب یہ صورتحال غیر پائیدار ہو چکی ہے۔
ٹم کک نے واضح کیا کہ فی الحال یہ طے نہیں کیا گیا کہ قیمتوں میں اضافہ کب ہوگا، کتنا ہوگا اور ایپل کی کون سی مصنوعات اس سے متاثر ہوں گی۔ ایپل کی آئندہ بڑی لانچ ستمبر میں متوقع ہے جس میں آئی فون 18 سیریز پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل صارفین کے لیے خوشخبری، اہم سافٹ ویئراَپ ڈیٹ لانچ، آپ کا فون بھی ہوگا پہلے سے کہیں زیادہ اسمارٹ
انہوں نے مزید کہا کہ مارکیٹ میں سپلائی محدود جبکہ صارفین کی طلب بڑھ رہی ہے جبکہ میموری چپ بنانے والی کمپنیاں مسلسل قیمتوں میں اضافہ منتقل کر رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تحقیقی ادارے ٹیک انسائٹس نے اندازہ لگایا ہے کہ ایپل کو اپنے موجودہ منافع کے مارجن کو برقرار رکھنے کے لیے آئی فون پرو ماڈل کی قیمت میں تقریباً 270 امریکی ڈالر اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا اب Siri AI آپ کی پرانی چیٹس اور چھپی معلومات بھی نکال لے گا؟ ایپل نے سب کو حیران کر دیا
مصنوعی ذہانت کے لیے بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے باعث میموری چپس اور ریم (RAM) کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ اجزاء تقریباً تمام الیکٹرانک آلات میں استعمال ہوتے ہیں اور 2025 کے آخر سے ان کی قیمتوں میں ہر سہ ماہی کم از کم 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
ٹم کک جو اپنے کیریئر میں آئی بی ایم اور کمپیک سمیت مختلف کمپنیوں میں سپلائی چین کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں، نے کہا کہ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں اس نوعیت کا شدید قیمتوں کا دباؤ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
انہوں نے موجودہ صورتحال کو ’سو سال میں آنے والا سیلاب‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ میموری چپ انڈسٹری غیر معمولی دباؤ کا شکار ہے۔














