مراکش کے نامور فٹبالر اور قومی ٹیم کے کپتان اشرف حکیمی کو فرانس میں ریپ (زیادتی) کے الزام میں باقاعدہ عدالتی ٹرائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
فرانسیسی اپیلٹ عدالت نے فٹبالر کی جانب سے دائر کردہ درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کیس کو فوجداری عدالت میں بھیجنے کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
27 سالہ اشرف حکیمی، جو فرانسیسی کلب ’پیرس سینٹ جرمین‘ کے دفاعی کھلاڑی ہیں اور ماضی میں ’ریال میڈرڈ‘ کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں، اس وقت مراکشی قومی ٹیم کے ساتھ ورلڈ کپ میں شریک ہیں۔
فروری 2023 کی شکایت اور طویل قانونی تفتیش
یہ ہائی پروفائل مقدمہ فروری 2023 میں درج کرائی گئی ایک شکایت سے شروع ہوا تھا، جس میں ایک 24 سالہ خاتون نے الزام لگایا تھا کہ اشرف حکیمی نے پیرس کے مضافات میں واقع اپنے گھر پر ان کے ساتھ زیادتی کی۔
تفتیش کا آغاز اور عدالتی حکم
شکایت موصول ہونے کے بعد فرانسیسی استغاثہ نے مارچ 2023 میں باضابطہ تحقیقات کا آغاز کیا۔ طویل تفتیش کے بعد ایک تحقیقاتی جج نے رواں سال فروری میں مقدمے کو ٹرائل کے لیے بھیجنے کا حکم دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ: 10 کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے والی پیراگوئے نے ترکیہ کو شکست دے کر ایونٹ سے باہر کردیا
حکیمی نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی، تاہم ورسائی کی عدالت نے ان کی درخواست مسترد کر دی، جس کے بعد اب مقدمے کی باقاعدہ سماعت کا راستہ مکمل طور پر ہموار ہو گیا ہے۔
مجھے بولنے کا موقع ملے گا؟، اشرف حکیمی کا سخت مؤقف
اشرف حکیمی نے ابتدا سے ہی تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور خود کو سو فیصد بے قصور قرار دیا ہے۔ ورلڈ کپ میں مراکش کے اہم میچ سے قبل انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ مقدمے کے آغاز کے منتظر ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ ’میں پہلے دن سے اس مقدمے کا انتظار کر رہا ہوں اور اب بے چینی سے اس کا منتظر ہوں۔ آخرکار مجھے بولنے کا موقع ملے گا‘۔
اشرف حکیمی نے مزید کہا کہ انہیں فرانسیسی نظامِ انصاف پر مکمل اعتماد ہے اور ان کا ماننا ہے کہ اگر وہ ایک مشہور شخصیت نہ ہوتے تو یہ معاملہ کبھی عدالت تک نہ پہنچتا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان جھوٹے الزامات نے ان کے خاندان، ذاتی زندگی اور سچائی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
دوسری جانب متاثرہ خاتون کی وکیل رابیل فلور پارڈو نے اپیل عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’3 سال سے زیادہ طویل قانونی کارروائی کے بعد یہ فیصلہ میری مؤکلہ کے لیے سکون اور امید کا باعث بنا ہے‘۔
ورلڈ کپ میں شرکت اور سفری پابندیوں کا ممکنہ خطرہ
اشرف حکیمی اس وقت مراکش کی قومی ٹیم کے ساتھ امریکا میں ہونے والے ورلڈ کپ میں شریک ہیں، جہاں مراکش اپنے تمام گروپ میچز امریکا میں کھیل رہا ہے۔
مزید پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ: سوئٹزرلینڈ کی بوسنیا کو 1-4 سے شکست، گروپ بی میں پہلی پوزیشن حاصل
تاہم اگر مراکش کی ٹیم ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچتی ہے اور اس کے میچز کینیڈا یا میکسیکو میں منتقل ہوتے ہیں، تو حکیمی کو شدید سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ جاری قانونی کارروائی ان کے بین الاقوامی سفر پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
تھامس پارٹے کا کیس بھی دوبارہ توجہ کا مرکز بن گیا
اشرف حکیمی کے اس معاملے کے تناظر میں گھانا کے مڈفیلڈر تھامس پارٹے کا کیس بھی ایک بار پھر فٹبال کی دنیا میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
گزشتہ ہفتے گھانا کے مڈفیلڈر تھامس پارٹے اپنی ٹیم کے ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں شرکت نہیں کر سکے تھے، کیونکہ انہیں کینیڈا میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
پارٹے بھی اس وقت برطانیہ میں ریپ اور جنسی زیادتی کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے بھی ان تمام الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ سماعت اگلے سال متوقع ہے۔
آئندہ کے مراحل اور عدالتی ٹرائل
فرانسیسی عدالت کے حالیہ فیصلے کے بعد اشرف حکیمی کے خلاف یہ کیس اب فوجداری عدالت میں چلایا جائے گا، جہاں استغاثہ اور دفاع دونوں کی جانب سے اپنے اپنے شواہد اور گواہ پیش کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ: مراکش، امریکا اور برازیل کی فتوحات، امریکی ٹیم نے نئی تاریخ رقم کردی
فی الحال حکیمی بدستور اپنی بے گناہی پر قائم ہیں، جبکہ مقدمے کا حتمی فیصلہ عدالت کی آئندہ سماعتوں اور پیش کیے جانے والے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔












