خیبرپختونخوا میں نسوار کی تیاری، سپلائی، فروخت اور استعمال کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے ایک بل تیار کیا گیا ہے، جس میں نسوار کی تیاری کے لیے لائسنس اور عوامی مقامات پر نسوار تھوکنے پر جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔
ریگولیشن آف اسنف (نسوار) بل 2026 ایک پرائیوٹ ممبر بل ہے، جسے ن لیگ کی رکن آمنہ سردار نے تیار کیا ہے اور خیبرپختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرا دیا ہے۔ رکن صوبائی اسمبلی آمنہ سردار کے مطابق اس بل کا مقصد صوبے میں نسوار کی تیاری اور فروخت کو قانونی دائرے میں لانا ہے۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ میں نسوار کی قیمت میں اچانک ہوشربا اضافہ، وجوہات کیا ہیں؟
یاد رہے کہ پرائیوٹ ممبر بل وہ ہوتا ہے جو کسی بھی رکن اسمبلی کی طرف سے پیش کیا جائے جو کابینہ کا حصہ نہ ہو۔
نسوار کی تیاری کو قانونی دائرے میں لانا
رکن صوبائی اسمبلی آمنہ سردار کی جانب سے تیار کردہ بل میں نسوار کی تیاری سے لے کر ذخیرہ، سپلائی اور فروخت کو قانونی دائرے میں لانے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے مطابق حکومت نسوار تیار کرنے والوں، سپلائرز اور فروخت کنندگان کے لیے الگ الگ کیٹیگریز میں لائسنس جاری کرے گی۔ لائسنس کے بغیر نسوار کی تیاری ممکن نہیں ہوگی، اور نہ ہی دکاندار کو فروخت کی اجازت ہوگی۔
بل کے مطابق حکومت مختلف لائسنس جاری کرےگی جو تیاری، سپلائی اور ریٹیل کے لیے لازمی ہوں گے۔
اس بل میں لکھا ہے کہ لائسنس کی باقاعدہ فیس مقرر ہوگی اور ایک مقررہ مدت کے اندر ریونیو جمع کرنا ہوگا۔ اس کے مطابق نسوار تیار کرنے والوں کا مکمل ریکارڈ حکومت کے پاس ہوگا اور ذخیرے کی تفصیل بھی موجود ہوگی، جس سے یہ معلوم ہو سکے گا کہ صوبے میں کتنی مقدار میں نسوار کی تیاری اور استعمال ہو رہا ہے۔
لائسنس کے اجرا سے تمام نسوار تیار کرنے والے یونٹس حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ ہوں گے، جبکہ متعلقہ حکام انسپکشن بھی کریں گے۔ بغیر لائسنس اور رجسٹریشن کے نسوار کی تیاری پر قانونی کارروائی ہوگی، اور ذخیرے کا ریکارڈ 3 سال تک رکھنا ہوگا۔
کن مقامات پر اور کن کو فروخت پر پابندی ہوگی؟
نسوار بل میں تجویز دی گئی ہے کہ نابالغ افراد اور بچوں کو نسوار کی فروخت پر مکمل پابندی ہوگی۔ دکاندار بچوں کو نسوار فروخت نہیں کرے گا۔
اس کے علاوہ دکاندار نسوار کو دکان میں نمایاں جگہ پر نہیں رکھ سکے گا، بلکہ ایسی جگہ رکھے گا جو لوگوں کی براہِ راست نظروں میں نہ آئے۔ دکانداروں پر لازم ہوگا کہ وہ دکان میں بچوں کو نسوار فروخت نہ کرنے کا نوٹس نمایاں جگہ پر آویزاں کریں۔
بل میں مزید شامل ہے کہ اسکولوں، اسپتالوں اور مدارس کے 100 میٹر کے اندر نسوار کی فروخت پر مکمل پابندی ہوگی۔
نسوار کی پیکنگ
بل میں نسوار کی پیکنگ اور اس پر صحت سے متعلق نقصانات کے بارے میں واضح تحریر درج کرنا لازمی ہوگا۔ تجویز دی گئی ہے کہ نسوار کی پیکنگ معیاری ہونی چاہیے، اور اس کی آن لائن فروخت، تشہیر اور ہوم ڈیلیوری پر مکمل پابندی ہوگی۔
نسوار استعمال کرنے والا خود دکاندار سے خریداری کرے گا، خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی اور متعلقہ ایکٹ کے تحت جرمانہ اور سزا تجویز کی گئی ہے، جو 50 ہزار روپے جرمانہ اور ایک سال تک قید ہو سکتی ہے۔
عوامی مقامات پر نسوار تھوکنے پر جرمانہ
بل میں نسوار استعمال کرنے والوں کے لیے ہدایات دینے کی تجویز دی گئی ہے، اور عوامی مقامات جیسے سڑکوں، پارکوں، اسکولوں، بازاروں اور دیگر جگہوں پر نسوار تھوکنا جرم ہوگا۔ اس پر ایک ہزار روپے تک جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔ بل کے مطابق نسوار تھوکنے سے بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
اہم قانون سازی ہے، امید ہے تمام اراکین حمایت کریں گے
خیبر پختونخوا اسمبلی کی رکن آمنہ سردار، جنہوں نے نسوار بل کا مسودہ تیار کیا ہے، نے وی نیوز کو بتایا کہ صوبے میں نسوار کا استعمال سب سے زیادہ ہے، جبکہ تمباکو سے متعلق قوانین کا اطلاق اس پر مکمل طور پر نہیں ہوتا۔
مزید پڑھیں: اسکول جانے والے بچوں میں نیکوٹین پاؤچز اور ای سگریٹ کا بڑھتا رجحان، یہ کتنے خطرناک ہیں؟
انہوں نے کہاکہ نسوار ہر جگہ آسانی سے دستیاب ہے اور اس کے زیادہ استعمال کی بڑی وجہ بھی یہی ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ گھروں میں بڑے افراد بچوں کے ذریعے دکان سے نسوار منگواتے ہیں، جس سے بچے بھی اس کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق نئی قانون سازی سے بچوں میں اس کے استعمال کو روکنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے بتایا کہ بل کا مسودہ پرائیوٹ ممبر کی حیثیت سے اسمبلی میں جمع کرا دیا گیا ہے، جس کے بعد متعلقہ محکموں سے مشاورت ہوگی، اور پھر بل اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔











