آزاد کشمیر انتخابات میں انتخابی گہما گہمی بڑھنے لگی، پیپلز پارٹی پیچھے کیوں ہٹنا چاہتی ہے؟

پیر 22 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد جموں و کشمیر کی 53 نشستوں پر مشتمل قانون ساز اسمبلی کی آئینی مدت 3 اگست 2026 کو مکمل ہونے جا رہی ہے، جس کے ساتھ ہی ریاست میں عام انتخابات کا بگل بج چکا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے 27 جولائی کو انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا جا چکا ہے، تمام سیاسی جماعتوں نے انتخابات کی تیاریاں شروع کی ہوئی ہیں تاہم پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی جانب سے انتخابی شیڈول پر اعتراضات عائد کردیے گئے ہیں۔

آزاد کشمیر کی سیاست میں یہ روایت طویل عرصے سے موجود رہی ہے کہ ووٹر اکثر وفاق میں برسر اقتدار جماعت کے حق میں فیصلہ دیتے ہیں تاکہ ترقیاتی فنڈز اور انتظامی امور میں آسانی پیدا ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار پاکستان مسلم لیگ (ن) وفاق میں اپنی سیاسی پوزیشن کے باعث مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات 2026: مسلم لیگ (ن) نے 37 حلقوں کے امیدواروں کا اعلان کر دیا

ن لیگ کی انتخابی تیاری مکمل

مسلم لیگ (ن) کے بیشتر رہنما کہہ چکے ہیں کہ آزاد کشمیر میں الیکشن ایک دن کے لیے بھی تاخیر کا شکار نہیں ہوں گے، وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے واضح کیا ہے کہ 27 جولائی کی تاریخ الیکشن کمیشن نے آئینی تقاضوں کے مطابق مقرر کی ہے اور اسے کسی سیاسی خواہش یا مطالبے کی بنیاد پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اس معاملے پر دیگر سیاسی جماعتوں سے مشاورت نہیں کی، انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔

مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر اور دیگر قیادت کی سربراہی میں پارٹی نے مظفرآباد، میرپور، نیلم اور دیگر حلقوں سمیت مہاجرین کے حلقوں میں بھی انتخابی مہم شروع کردی ہے۔

پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق انتخابات مقررہ وقت پر ہونا ضروری ہیں اور کسی بھی تاخیر سے جمہوری عمل متاثر ہوگا۔

شاہ غلام قادر نے کہاکہ موجودہ اسمبلی کی آئینی مدت ختم ہونے جا رہی ہے اور الیکشن کمیشن کے پاس انتخابات میں تاخیر کی کوئی آئینی گنجائش موجود نہیں۔ ان کے مطابق اگر انتخابات ملتوی کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ آزاد کشمیر کی جمہوریت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔

پیپلز پارٹی کا شیڈول پر اعتراض

پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے الیکشن کمیشن سے انتخابی شیڈول واپس لینے اور نیا شیڈول جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جموں و کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد صدر چوہدری محمد یاسین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ حالات میں شفاف انتخابات ممکن نہیں۔

پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ پارٹی نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان نہیں کیا۔ پارٹی کے سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ نے کہاکہ پیپلز پارٹی صرف انتخابی شیڈول پر نظرثانی چاہتی ہے اور مناسب ماحول میں انتخابات کی حامی ہے۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی میرپور اور کوٹلی کے اپنے روایتی ووٹ بینک کو متحرک کررہی ہے، تاہم انتخابی شیڈول پر اعتراضات نے اس کی سیاسی حکمت عملی پر سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔

عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاج

آزاد کشمیر میں ان دنوں عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج اور دھرنوں نے کچھ علاقوں میں سیاسی و انتظامی صورتحال کو متاثر کیا ہے۔ راولاکوٹ میں جاری احتجاج کے باعث معمولات زندگی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں اور بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابات کا انعقاد ہو گا لیکن ہو سکتا ہے کہ ایک یا دو اضلاع میں انتخابات میں کچھ تاخیر ہو جائے۔

قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض مطالبات جائز تھے اور ان کے ساتھ حکومت، اپوزیشن اور وفاقی نمائندوں نے مذاکرات بھی کیے، تاہم معاملات کو حل کرنے کے لیے مزید وقت درکار تھا۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے موجودہ صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سڑکوں کی بندش، اشیائے ضروریہ کی قلت اور روزمرہ زندگی کی مشکلات عام شہریوں کو متاثر کررہی ہیں۔

شاہ غلام قادر نے سوال اٹھایا کہ اگر بعض علاقوں میں عام شہریوں کو انٹرنیٹ دستیاب نہیں تو احتجاجی کیمپوں میں جدید مواصلاتی سہولیات کیسے موجود ہیں، اور ان اخراجات کو کون برداشت کر رہا ہے۔

پی ٹی آئی کو اندرونی بحران کا سامنا

2021 کے انتخابات میں 26 نشستیں حاصل کرکے حکومت بنانے والی پاکستان تحریک انصاف اس بار شدید سیاسی مشکلات کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ اپریل 2023 میں چوہدری انوارالحق کے فارورڈ بلاک بنانے اور بعد ازاں مخلوط حکومت کے قیام کے بعد پارٹی اندرونی اختلافات کا شکار ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ٹکٹوں کی تقسیم، تنظیمی اختلافات اور وفاقی سطح پر سیاسی کشیدگی نے پی ٹی آئی کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔

مسلم کانفرنس بھی میدان میں

سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کی قیادت میں مسلم کانفرنس باغ اور پونچھ کے بعض حلقوں میں اب بھی اپنا روایتی اثر و رسوخ برقرار رکھے ہوئے ہے اور پارٹی بعض نشستوں پر فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔

صدر مسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں انتخابات کی سیاسی گہما گہمی شروع ہو چکی ہے، مسلم کانفرنس کی کوشش تھی کہ آئندہ انتخابات زیادہ بہتر تیاری کے ساتھ لڑے جائیں۔؎

کچھ حلقوں میں انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں، ابصار عالم

سینیئر تجزیہ کار ابصار عالم کے مطابق انتخابات کا عمل شروع ہو چکا ہے، مسلم لیگ (ن) اور دیگر جماعتوں کے امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کرا چکے ہیں اور انتخابات کے ملتوی ہونے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔

ان کے مطابق صرف راولاکوٹ اور چند حساس حلقوں میں حالات خراب ہونے کی صورت میں مخصوص نشستوں پر انتخابات مؤخر کیے جا سکتے ہیں، تاہم مجموعی طور پر پورے آزاد کشمیر میں انتخابات وقت پر ہوں گے۔

پیپلز پارٹی انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرےگی، احمد ولید

سینیئر تجزیہ کار احمد ولید کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی درحقیقت انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرے گی بلکہ عوامی ایکشن کمیٹی اور عوامی مطالبات کے حوالے سے نرم موقف اختیار کرکے اپنے ووٹ بینک کو متحرک کرنا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر نے پیپلز پارٹی کی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کردی

احمد ولید نے کہاکہ اس مرتبہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں تین بڑے عوامل اہم کردار ادا کریں گے، پونچھ ڈویژن کا مقامی سیاسی بیانیہ، میرپور کا برادری ازم اور وفاقی حکومت کا سیاسی اثر، موجودہ صورتحال میں مسلم لیگ (ن)، مسلم کانفرنس اور دیگر جماعتیں انتخابی مہم میں متحرک نظر آ رہی ہیں جبکہ پیپلز پارٹی انتخابی شیڈول پر تحفظات کا اظہار کر رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ دیگر جماعتیں انتخابی میدان میں اترنے کے لیے تیار ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی حالات اور شیڈول کے حوالے سے تحفظات کے باعث دفاعی پوزیشن اختیار کیے ہوئے ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp