’خواتین کے حقوق قربان نہ کیے جائیں‘: یورپی یونین کی جانب سے طالبان کو مذاکرات کی دعوت پر ملالہ یوسفزئی کا سخت ردعمل

منگل 23 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نوبیل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے افغان مہاجرین سے متعلق مذاکرات کے لیے یورپی یونین کی جانب سے طالبان نمائندوں کو برسلز مدعو کرنے کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ طالبان کے رویے کے حوالے سے ایک خطرناک پیغام دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی بچوں کا ملالہ سے ویڈیو کال مکالمہ، تعلیمی رکاوٹیں اور اسرائیلی مظالم کی دردناک کہانی

ملالہ یوسفزئی نے پیر کو ایکس پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ یورپ کو ایسے نظام کے ساتھ معاہدوں سے گریز کرنا چاہیے جو ان کے بقول دنیا کے بدترین انسانی حقوق کے بحرانوں میں سے ایک کا ذمہ دار ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین نے طالبان حکام کو برسلز میں مائیگریشن سے متعلق معاہدے پر بات چیت کے لیے مدعو کیا ہے اور یہ خبر مجھے شدید صدمے اور تشویش میں مبتلا کر رہی ہے۔

ملالہ کا کہنا تھا کہ طالبان کو برسلز میں مذاکرات کے لیے مدعو کرنا ایک خطرناک پیغام ہے کہ کوئی بھی حکومت خواتین اور لڑکیوں پر ظلم ڈھا کر بھی عالمی سفارتی شراکت دار کے طور پر قبول کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے طالبان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے افغانستان میں صنفی امتیاز پر مبنی ایک ایسا نظام قائم کر دیا ہے جس نے خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، روزگار، عوامی زندگی اور آزادانہ نقل و حرکت سے محروم کر دیا ہے۔

مزید پڑھیے: ملالہ یوسف زئی غزہ کی صورت حال پر خاموش کیوں ہیں؟ شہزاد رائے کے سوال پر وضاحت کردی

ملالہ نے مزید کہا کہ طالبان نے صنفی امتیاز کے اس نظام کے ذریعے خواتین اور لڑکیوں کو عوامی زندگی سے مٹا دیا ہے۔ یورپ کو ایسے نظام کو کسی صورت قانونی یا سفارتی جواز نہیں دینا چاہیے جو دنیا کے بدترین انسانی حقوق کے بحرانوں میں سے ایک کا ذمہ دار ہو۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ طالبان کی پالیسیوں نے خواتین اور لڑکیوں کو کم عمری اور جبری شادیوں جیسے حالات سے بھی دوچار کر دیا ہے۔

خواتین کے حقوق پر شدید تشویش

ملالہ یوسفزئی نے افغانستان کے شہر ہرات میں حالیہ پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتے طالبان نے خواتین کے لباس کے معاملے پر کم از کم 30 خواتین اور لڑکیوں کو گرفتار کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہی حکومت ہے جس نے گزشتہ ہفتے ہرات میں خواتین اور لڑکیوں کو لباس کے معاملے پر گرفتار کیا اور ان گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک بچہ جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔

مزید پڑھیں: یونیورسٹی میں منشیات کا استعمال طالبان حملے کی خوفناک یاد تازہ کر گیا، ملالہ یوسفزئی کا انکشاف

ملالہ نے زور دیا کہ طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت کا آغاز اور اختتام افغان خواتین اور لڑکیوں کے حقوق سے ہونا چاہیے۔

یورپی یونین نے دعوت کی تصدیق کر دی

ملالہ کے بیان کے بعد یورپی یونین نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ افغان شہریوں کی واپسی اور مہاجرت سے متعلق امور پر مذاکرات کے لیے طالبان کے ایک وفد کو برسلز مدعو کیا گیا ہے۔

بیلجیم کے وزیر خارجہ میکسم پریوو نے پیر کو بتایا کہ بیلجیم نے یورپی کمیشن کی درخواست پر طالبان کے 5 نمائندوں کو ایک روزہ ویزے جاری کیے ہیں۔

بیلجیم کے سرکاری نشریاتی ادارے وی آر ٹی کے مطابق طالبان وفد برسلز میں افغان پناہ گزینوں کی واپسی اور دیگر مہاجرت سے متعلق امور پر مذاکرات میں شرکت کرے گا۔

طالبان کے سنہ 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد یہ چند مواقع میں سے ایک ہے جب ان کے نمائندوں کو یورپی اداروں کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

بیلجیم نے فیصلے سے لاتعلقی ظاہر کر دی

بیلجیم کے وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر یورپی کمیشن کے اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے تاہم چونکہ برسلز یورپی یونین کے اداروں کا میزبان شہر ہے اس لیے بیلجیم اس دعوت کو روکنے کا اختیار نہیں رکھتا۔

یہ بھی پڑھیے: وہ اسکول جو ملالہ جیسی سماجی کارکنوں کے منتظر ہیں

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین جیسے اداروں کے میزبان ملک کی حیثیت سے بیلجیم ایسے وفود کی آمد سے انکار نہیں کر سکتا چاہے وہ خود اس حکومت کو تسلیم نہ کرتا ہو۔

ان کے مطابق طالبان وفد کو ویزے جاری کرنے سے قبل بیلجیم کی ریاستی سیکیورٹی اور فوجی انٹیلی جنس ادارے نے مکمل سکیورٹی جانچ کی جس میں کوئی ایسا ثبوت سامنے نہیں آیا کہ وفد ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

حکام کے مطابق یہ ویزے صرف ایک روز کے لیے اور صرف بیلجیم تک محدود ہوں گے جن کے ذریعے شینگن کے دیگر ممالک کا سفر ممکن نہیں ہوگا۔ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر وفد کے دورے کی تاریخ بھی ظاہر نہیں کی گئی۔

طالبان سے روابط پر نئی بحث

طالبان وفد کی دعوت کے بعد یورپ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں میں ایک بار پھر یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ طالبان حکومت کے ساتھ انسانی، مہاجرتی اور سکیورٹی معاملات پر رابطے کس حد تک مناسب ہیں جبکہ خواتین کے حقوق پر دباؤ بھی برقرار رکھا جائے۔

اگرچہ متعدد ممالک اور بین الاقوامی ادارے انسانی امداد، سیکیورٹی اور مہاجرت جیسے معاملات پر طالبان سے رابطے میں ہیں تاہم اب تک کسی مغربی حکومت نے طالبان انتظامیہ کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: کیا ’ملالہ فنڈ‘ پاکستان میں تعلیم سے محروم 2 کروڑ سے زائد بچوں کے لیے راحت کا سبب بن سکتا ہے؟

انسانی حقوق کے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ سفارتی روابط کسی صورت افغان خواتین اور لڑکیوں کے بنیادی حقوق، تعلیم، روزگار اور شہری آزادیوں کے معاملے پر جوابدہی کا متبادل نہیں بننے چاہییں۔

خواتین کے حقوق کی بدترین تنزلی

اقوام متحدہ اور متعدد انسانی حقوق کی تنظیمیں طالبان کی پابندیوں کو دنیا میں خواتین کے حقوق کی بدترین تنزلی قرار دے چکی ہیں۔

سال 2023 تک 40 لاکھ افغان لڑکیاں ثانوی تعلیم سے نابلد ہوں گی

سنہ2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان نے لڑکیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی عائد کی، خواتین کے روزگار کے مواقع محدود کیے، ان کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں لگائیں اور انہیں عوامی زندگی کے بیشتر شعبوں سے باہر کر دیا۔

مزید پڑھیے: کیا ’ملالہ فنڈ‘ پاکستان میں تعلیم سے محروم 2 کروڑ سے زائد بچوں کے لیے راحت کا سبب بن سکتا ہے؟

اقوام متحدہ کے مطابق اگر یہ تعلیمی پابندیاں سنہ 2030 تک برقرار رہیں تو 40 لاکھ سے زائد افغان لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہو سکتی ہیں جس کے افغانستان کی معیشت، سماجی ترقی اور انسانی وسائل پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مصنوعی ذہانت اب بھکاریوں کے پیٹ پر بھی لات مارے گی؟ ری چارجنگ کو ترستے روبوٹ نے سڑک پر ہاتھ پھیلا دیے

سنگاپور : بزرگ خاتون کے کچرے سے بھرے فلیٹ سے ہزاروں ڈالرز کے سکے اور سونا برآمد

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت: ایران کا پاکستان کے کردار کا باضابطہ اعتراف، صدر مسعود پزشکیان کا دورہ نہایت اہم

افغانستان: طاقت، وسائل اور عہدوں پر قندھاری قیادت کی اجارہ داری، طالبان حکومت کے خلاف نئی رپورٹ نے ہلچل مچا دی

نجی تصاویر وائرل ہونے سے عائشہ عمر کی زندگی کس طرح متاثر ہوئی؟

ویڈیو

ایرانی صدر مسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے، صدر، وزیراعظم نے استقبال کیا، 21 توپوں کی سلامی، گارڈ آف آنر پیش

پاکستان نے ایران امریکا مفاہمت میں تاریخی کردار ادا کیا، یہ بڑی سفارتی کامیابی ہے، وزیراعظم شہباز شریف

ڈرگ روڈ کا نام ’شارع فیصل‘ کیوں رکھا گیا، تاریخی اہمیت کیا ہے؟

کالم / تجزیہ

بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا

جب پاکستان ہاکی نے ارجنٹائن کو عالمی فٹبال کپ جتوایا

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا