نیویارک: ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخابات میں اسرائیل کے حامی امیدواروں کو بدترین شکست

بدھ 24 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیویارک میں ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخابات میں میئر ظہران ممدانی کے حمایت یافتہ تمام امیدواروں نے کامیابی حاصل کر کے پارٹی کے بائیں بازو کے دھڑے کی بڑھتی ہوئی سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا ہے۔ نتائج نے نہ صرف ممدانی کے اثر و رسوخ کو نمایاں کیا بلکہ اسرائیل غزہ جنگ، امیگریشن اور معاشی پالیسیوں پر ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر گہری نظریاتی تقسیم کو بھی اجاگر کر دیا۔

نیویارک کے دسویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ میں ترقی پسند رہنما بریڈ لینڈر نے موجودہ رکن کانگریس ڈین گولڈمین کو شکست دے دی۔ اس انتخابی مقابلے نے ایک بار پھر اسرائیل اور غزہ جنگ کے معاملے پر ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر موجود اختلافات کو نمایاں کر دیا۔

بریڈ لینڈر اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، جبکہ 2 مرتبہ منتخب ہونے والے ڈین گولڈمین کو اسرائیل نواز تنظیموں کی حمایت حاصل تھی۔

منگل کو ہونے والے انتخابات میں ممدانی کے حمایت یافتہ 2 مزید امیدوار بھی کامیاب رہے، جسے امریکا کے سب سے بڑے شہر میں ڈیموکریٹک پارٹی کے بائیں بازو کے دھڑے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے بطور میئر نیویارک ابتدائی 100 دن میں کیا کیا؟ ظہران ممدانی نے اپنی کارکردگی بتا دی

ساتویں ڈسٹرکٹ میں اسمبلی رکن کلیئر والڈیز نے بروکلین بورو کے صدر انتونیو رینوسو کو شکست دی، جبکہ تیرہویں ڈسٹرکٹ میں ڈاکٹریٹ کی طالبہ ڈیریالیزا اویلا شیوالیئر کامیاب رہیں۔ شیوالیئر ماضی میں کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں میں بھی شریک رہی ہیں۔

انہوں نے ایڈریانو ایسپائیلات کو شکست دی، جو مسلسل 5 مدتوں سے اس حلقے کی نمائندگی کر رہے تھے اور کانگریشنل ہسپانک کاکس کے چیئرمین بھی تھے۔ یہ تنظیم امریکا میں ہسپانوی النسل شہریوں کے حقوق اور وسائل کے لیے قانون سازی کی وکالت کرتی ہے۔

ظہران ممدانی نے شیوالیئر کی کامیابی کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں ’واضح سوچ، مضبوط ضمیر اور پختہ عزم رکھنے والی شخصیت‘ قرار دیا۔

بریڈ لینڈر، جنہیں ورمونٹ سے تعلق رکھنے والے سوشلسٹ سینیٹر برنی سینڈرز کی بھی حمایت حاصل تھی، نے تقریباً تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد 65.7 فیصد ووٹ حاصل کر کے گولڈمین کو 34.1 فیصد کے مقابلے میں واضح شکست دی۔

ممدانی نے لینڈر کی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ایسی سیاست کے نمائندہ ہیں جو روایتی سیاسی طرزِ عمل سے مختلف اور زیادہ مؤثر وژن رکھتی ہے۔

نتائج کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں لینڈر نے کہا کہ لوئر مین ہیٹن اور بروکلین کے بعض علاقوں پر مشتمل ان کے حلقے کے عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ آمریت پسند رجحانات کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہونے والی قیادت چاہتے ہیں، نہ کہ پسپائی اختیار کرنے والی۔

ڈین گولڈمین کے خلاف لینڈر کی انتخابی مہم کو ظہران ممدانی کے سیاسی اثر و رسوخ کا اہم امتحان تصور کیا جا رہا تھا۔

شکست کے بعد گولڈمین نے کہا کہ انہوں نے لینڈر کو فون کر کے مبارکباد دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’دسویں ڈسٹرکٹ کے ووٹرز نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ اگرچہ یہ وہ نتیجہ نہیں جس کے لیے میں نے بھرپور محنت کی، لیکن میں عوام کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے گولڈمین کو ’کمزور اور بے اثر‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ ’بڑے مارجن سے شکست کھا گئے ہیں‘۔

لیوائی اسٹراس خاندان کے وارث ڈین گولڈمین نے 2019 میں ٹرمپ کے خلاف پہلی مواخذہ تحقیقات کی قیادت کر کے اپنی جماعت میں خاصی پذیرائی حاصل کی تھی، تاہم اسرائیل کی حمایت پر ان کے مؤقف نے نیویارک کے بعض حلقوں میں شدید تنقید کو جنم دیا۔

گزشتہ ہفتے بروکلین کے ایک کافی شاپ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر کے کہا تھا کہ گولڈمین وہاں خوش آمدید نہیں ہیں۔ اتوار کو گولڈمین اپنی 7 سالہ بیٹی کے ہمراہ ولیمزبرگ میں واقع پوئٹیکا کافی شاپ گئے تھے، جس کے بعد کافی شاپ نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ وہ ’نسل پرستوں، فاشسٹوں، ہم جنس پرستوں کے مخالفین، نسل کشی کے حامیوں یا ان جیسے افراد کو سروس نہیں دیتے‘۔ بعد ازاں یہ پوسٹ حذف کر دی گئی۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ لینڈر اور گولڈمین دونوں یہودی ہیں۔

دریں اثنا نیویارک کے خوشحال بارہویں ڈسٹرکٹ میں سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے نواسے جیک شلوسبرگ بھی انتخابی میدان میں کامیاب نہ ہو سکے۔

33 سالہ شلوسبرگ کو اسمبلی رکن میکا لاشر نے شکست دی، جو رکن کانگریس جیری نیڈلر کے جانشین کے انتخاب کے لیے ہونے والے ایک سخت مقابلے میں کامیاب رہے۔ لاشر ماضی میں نیڈلر کے مشیر بھی رہ چکے ہیں۔

شلوسبرگ، جو کیرولین کینیڈی کے صاحبزادے ہیں، ووگ میگزین کے نمائندہ، ہارورڈ لا اسکول کے گریجویٹ اور سیاست میں نسبتاً نئے چہرے ہیں۔ وہ اپنے منفرد سوشل میڈیا انداز کی وجہ سے بھی شہرت رکھتے ہیں۔

اسی حلقے میں ایک اور امیدوار جارج کانوے بھی تھے، جو قدامت پسند وکیل اور ٹرمپ مخالف تنظیم “لنکن پراجیکٹ” کے بانیوں میں شامل ہیں۔ تاہم وہ صرف تقریباً 6 فیصد ووٹ حاصل کر سکے۔

ظہران ممدانی نے اس حلقے میں کسی امیدوار کی حمایت کا اعلان نہیں کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے ظہران ممدانی نے پہلے دن ہی سابق میئر کے فیصلے منسوخ کر دیے، اسرائیل شدید برہم

انتخابات کے روز ممدانی نے کہا تھا کہ “یہ صرف زیادہ ڈیموکریٹس منتخب کرانے کا معاملہ نہیں بلکہ بہتر ڈیموکریٹس منتخب کرنے کا سوال ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ وہ ان امیدواروں میں محنت کش طبقے کو دوبارہ سیاست کے مرکز میں لانے کا عزم دیکھتے ہیں۔

تاہم واشنگٹن میں ڈیموکریٹک پارٹی کی مرکزی قیادت کو خدشہ ہے کہ بائیں بازو کے امیدوار نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں غیرجانبدار یا فیصلہ کن ووٹرز کو متوجہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔

ممدانی کے حمایت یافتہ تینوں کامیاب امیدوار امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے خاتمے، امیروں پر زیادہ ٹیکس عائد کرنے اور اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے الزامات عائد کرنے کے حامی ہیں، جبکہ اسرائیل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما حکیم جیفریز نے ممدانی کے حوالے سے کہا کہ “ہم نے بعض معاملات پر اختلافِ رائے پر اتفاق کیا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ چند ریاستوں میں ہونے والے چند پرائمری انتخابات ڈیموکریٹک پارٹی کے ایوانِ نمائندگان میں مجموعی تشخص کو تبدیل نہیں کر سکتے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp