امریکی ریاست اوریگون کے سسکیو پہاڑوں میں اپنی خاندانی زمین کو قدرتی ماحول میں واپس لانے والے ایک مخیر جوڑے کے لیے قدرت نے بہترین انعام دے دیا۔ ان کے لگائے گئے ٹریل کیمرے میں شمالی امریکا کے سب سے نایاب اور پراسرار جانوروں میں سے ایک ’رِنگ ٹیل‘ یا ’مائنرز کیٹ‘کی ویڈیو ریکارڈ ہوگئی ہے۔
بل اور سارہ ایپسٹین نے دہائیوں پہلے 405 ایکڑ پر مشتمل یہ زمین خریدی تھی جو 1973 کی خوفناک جنگلاتی آگ اور بے دریغ کٹائی سے تباہ ہوچکی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے اسے ’ایش لینڈ‘ کے قریب واقع ایپسٹین فیملی فاریسٹ میں تبدیل کرنے کے لیے سالوں محنت کی۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا میں 24 کروڑ سال پرانا پراسرار آبی جاندار دریافت
آج یہ زمین بلوط کے جنگلات، کونیفر درختوں، آبی گزرگاہوں اور دلدلی علاقوں کا خوبصورت امتزاج بن چکی ہے جو نایاب جنگلی حیات اور صاف پانی کو سہارا دے رہی ہے۔
رِنگ ٹیل، جسے ’مائنرز کیٹ‘ بھی کہا جاتا ہے، عام ریکون کا کزن ہے مگر اس سے کہیں زیادہ نایاب۔ یہ رات کو نکلنے والا، گھریلو بلی سے چھوٹا جانور ہے جس کا مطالعہ بہت کم ہوا ہے۔ اسے امریکی قانون کے تحت اینڈینجرڈ اسپیشیز ایکٹ سے پہلے ہی تحفظ حاصل تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بلی نہیں ہے، چوہوں کا شکار کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے کان کن اسے اپنے کیمپوں میں پالتے تھے، اسی لیے اس کا نام مائنرز کیٹ پڑ گیا۔
View this post on Instagram
کیمرے کی ویڈیو میں یہ نایاب جانور اچانک فریم میں کودتا ہے، اردگرد دیکھنے کے لیے اپنے پچھلے پیروں پر کھڑا ہوتا ہے، اور پھر اپنی دھاری دار دم لہراتا ہوا چلا جاتا ہے۔
ایپسٹین جوڑے نے اس زمین کو ہمیشہ کے لیے محفوظ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ خاندان کے ایک فرد کو اسٹیج-4 کینسر کی تشخیص کے بعد، وہ پیسیفک فاریسٹ ٹرسٹ کے ساتھ مل کر ایک ’ورکنگ فاریسٹ کنزرویشن ایزمنٹ‘ مکمل کررہے ہیں۔
یہ ایک قانونی معاہدہ ہے جو جنگل کو پیداواری رکھتے ہوئے یہ یقینی بناتا ہے کہ انتظامی طریقے حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی صحت کو سپورٹ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: ’ویر وولف‘ جیسی ایک اور پراسرار مخلوق دیکھے جانے کا دعویٰ
جوڑے نے اپنے بیان میں کہا ’یہ ایک گہرا اطمینان ہے کہ ہماری زمین کے لیے جو اہداف ہم نے طے کیے ہیں، ان کا ہمیشہ کے لیے انتظام اور تحفظ کیا جائے گا۔‘
ایپسٹین فیملی فاریسٹ آج سینکڑوں پرندوں، ایمفیبیئنز اور ممالیہ جانوروں کا گھر ہے جو سرکاری اور نجی زمینوں کی سرحدوں کے پار گھومتے ہیں۔
مائنرز کیٹ کا نظر آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ نجی زمینوں پر کی گئی بحالی کی کوششیں کتنی کامیاب ہوسکتی ہیں۔
یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ اگر انسان فطرت کو موقع دے تو وہ خود کو حیرت انگیز طریقے سے بحال کرلیتی ہے اور کبھی کبھی اس کا شکریہ نایاب جانوروں کی جھلک کی صورت میں ادا کرتی ہے۔














