بھارت کی آبی جارحیت، پاکستان قانونی چارہ جوئی کے لیے کن فورمز پر جا سکتا ہے؟

اتوار 28 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آبی امور کے ماہر ڈاکٹر حسن عباس نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس بھارت کی جانب سے آبی معاہدوں کی خلاف ورزی اور ماحولیاتی جارحیت کے خلاف بین الاقوامی فورمز پر مؤثر قانونی کارروائی کرنے کے وسیع راستے موجود ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارت نہ صرف دوطرفہ آبی معاہدوں کی دھجیاں اڑا رہا ہے بلکہ وہ عالمی انسانی حقوق اور ماحولیاتی قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔

پاکستان قانونی چارہ جوئی کے لیے کن فورمز پر جا سکتا ہے؟

پاکستان ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں ڈاکٹر حسن عباس نے واضح کیا کہ پاکستان 1997 کے اقوام متحدہ کے بین الاقوامی آبی قوانین، جنیوا کنونشن، 1966 کے ہیلسنکی رولز، برلن رولز اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے کنونشنز کے تحت اپنا کیس مضبوطی سے پیش کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ صرف پانی کا نہیں، عالمی امن اور سلامتی کا معاملہ بن گیا

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کی جانے والی آبی جارحیت ’ایکو سائیڈ‘ (ماحولیاتی تباہی) کے زمرے میں آتی ہے، جو بین الاقوامی قانون میں ایک اہم اور سنجیدہ معاملہ ہے۔

بین الاقوامی ثالثی عدالت اور عالمی عدالت انصاف کا کردار

ڈاکٹر حسن عباس کے مطابق پاکستان سب سے پہلے بین الاقوامی ثالثی عدالت سے رجوع کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کا معاملہ اٹھا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی بنیاد پر بین الاقوامی عدالت انصاف میں بھی الگ سے مقدمہ دائر کرنے کی گنجائش موجود ہے۔

انسانی حقوق اور ماحولیاتی خلاف ورزیوں پر ایکشن

ماہر آبی امور کا کہنا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ان خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھا سکتا ہے جو پانی کی بندش کے باعث عام شہریوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔

مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ: عدالت کا فیصلہ پاکستان کے حق میں، بھارت کے یکطرفہ اقدامات مسترد

انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی قوانین کی پامالی اور ایکو سائیڈ پر بھی عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنا ایک درست حکمت عملی ہوگی۔

عالمی فوجداری عدالت میں کارروائی کا امکان

ڈاکٹر حسن عباس نے ایک اہم نکتے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ملک کی قیادت ایسے بیانات دے جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہوں، تو ایسی صورت میں بین الاقوامی فوجداری عدالت میں متعلقہ فریق کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ترکیہ کا ففتھ جنریشن جنگی طیارہ ’ کآن‘ اڑان بھرنے کو تیار، امریکی صدر سے بڑے سرپرائز کی امید

لاہور سے کراچی جانے والی شالیمار ایکسپریس کو خانیوال کے قریب حادثہ، بوگی پٹڑی سے اتر گئی

ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ کمانے کا سنہری موقع، نوجوانوں کے لیے بڑی خوشخبری آگئی

یمن کی بندرگاہ حدیدہ کے قریب مال بردار جہاز پر حملہ، بحیرۂ احمر میں سکیورٹی خدشات پھر بڑھ گئے

5 جولائی 1977 کا مارشل لا جمہوریت پر حملہ تھا: بلاول بھٹو زرداری

ویڈیو

پاکستان اور ترکیہ معاشی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

’بھارت نے پانی روکا تو پاکستان بھارت کی لائف لائن بند کر دے گا‘

’مریم کی دستک‘ ایپ کیا ہے اور اس کے ساتھ کتنے ادارے منسلک ہیں؟

کالم / تجزیہ

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش

بریسٹ کینسر: خوف نہیں، آگاہی کی ضرورت

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟