کینیڈا نے ورلڈ کپ میں تاریخ رقم کر دی، جنوبی افریقہ کو شکست دے کر پہلی بار ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی

پیر 29 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فیفا ورلڈ کپ میں کینیڈا نے جنوبی افریقہ کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 0-1 سے شکست دے کر اپنی تاریخ کی پہلی ناک آؤٹ مرحلے کی فتح حاصل کر لی۔ اضافی وقت میں اسٹیفن ایسٹاکیو کے فیصلہ کن گول نے نہ صرف کینیڈا کو ٹاپ کی 16 ٹیموں میں پہنچایا بلکہ کوچ جیسی مارش نے اس تاریخی کامیابی کو ملکی فٹ بال کے مستقبل کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔

میچ ختم ہوتے ہی کینیڈین کوچ جیسی مارش میدان میں اپنے کھلاڑیوں کے درمیان پہنچے اور جذباتی انداز میں انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’آج تم سب کینیڈا کے ہیرو ہو۔ تم نے اس ملک کے ان بچوں کے لیے نئی راہیں کھول دی ہیں جو مستقبل میں فٹ بال کھیلیں گے۔ تم نے کبھی ہمت نہیں ہاری، ہر لمحہ لڑتے رہے اور آج تم نے تاریخ رقم کر دی۔‘

آخری لمحے کا گول، تاریخی فتح

لاس اینجلس کے سوفائی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس مقابلے میں جنوبی افریقہ نے پورے میچ کے دوران منظم دفاع کا مظاہرہ کیا اور کینیڈا کو گول کرنے کے کئی مواقع سے محروم رکھا۔

تاہم اضافی وقت کے دوسرے منٹ میں الیسٹر جانسٹن کی جانب سے پنالٹی ایریا میں بھیجی گئی طویل گیند دفاعی کھلاڑی مکمل طور پر کلیئر نہ کر سکے، جس کے بعد گیند براہِ راست مڈفیلڈر اسٹیفن ایسٹاکیو کے پاس پہنچی۔

لاس اینجلس ایف سی سے وابستہ ایسٹاکیو نے گیند کو سینے سے کنٹرول کیا اور انتہائی پُرسکون انداز میں نچلے کونے کی جانب شاٹ کھیل کر جنوبی افریقی گول کیپر رون وین ولیمز کو شکست دے دی۔ گول اسکور کرنے کے بعد وہ سیدھے کینیڈین بینچ کی طرف دوڑ پڑے، جہاں ساتھی کھلاڑیوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

ایسٹاکیو نے میچ کے بعد کہا، ’ہم نے اس کامیابی کے لیے سخت محنت کی۔ ہماری ٹیم ایک خاندان کی طرح ہے، ہم ایک دوسرے کے لیے کھیلتے اور لڑتے ہیں، اسی لیے ایسے یادگار لمحات جنم لیتے ہیں۔ خوشی اپنی جگہ، لیکن ہمارا کام ابھی مکمل نہیں ہوا۔‘

کوچ کی امیدیں، قوم کے لیے نئی تحریک

جیسی مارش کا کہنا تھا کہ اگر ان کی ٹیم پہلے ملنے والے مواقع سے فائدہ اٹھا لیتی تو مقابلہ اتنا مشکل نہ بنتا، تاہم آخری لمحات میں ہونے والے گول نے اس کامیابی کو ناقابلِ فراموش بنا دیا۔

انہوں نے کہا، ’مجھے یقین ہے کہ اس فتح کے اثرات کینیڈا میں بہت دور تک جائیں گے اور یہ نئی نسل کے لیے بڑی تحریک ثابت ہوگی۔‘

آخری 16 میں رسائی

فیفا کی تازہ عالمی درجہ بندی میں 30ویں نمبر پر موجود کینیڈا اب ہفتے کے روز ہیوسٹن میں نیدرلینڈز یا مراکش میں سے کسی ایک ٹیم کا سامنا کرے گا۔

کینیڈا نے گروپ مرحلے کے اپنے تینوں میچ ٹورنٹو اور وینکوور میں کھیلے تھے، تاہم سوئٹزرلینڈ کے خلاف 2-1 کی شکست کے باعث وہ اپنے ہوم گراؤنڈ پر تاریخ رقم کرنے میں ناکام رہا اور اسے ناک آؤٹ مرحلے کے لیے امریکا کا سفر کرنا پڑا۔

اس کامیابی کے ساتھ کینیڈا نے ورلڈ کپ میں اپنی 3 شرکتوں کے دوران پہلی مرتبہ آخری 16 مرحلے تک رسائی حاصل کی۔

ڈیوس کی واپسی نے ٹیم کو تقویت دی

میچ کے 75ویں منٹ میں بائرن میونخ کے اسٹار دفاعی کھلاڑی الفونسو ڈیوس بھی میدان میں اترے، جنہوں نے رواں ٹورنامنٹ میں پہلی بار شرکت کی۔

ڈیوس گزشتہ ماہ ہیم اسٹرنگ انجری کا شکار ہونے کے باعث گروپ مرحلے سے باہر رہے تھے۔ وہ اسی اسٹیڈیم میں واپس آئے جہاں مارچ 2025 میں کانکاکاف نیشنز لیگ کے دوران گھٹنے کی سنگین انجری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

میدان میں آتے ہی انہوں نے بہترین پاس کے ذریعے پرومس ڈیوڈ کو سنہری موقع فراہم کیا، تاہم وہ گیند کو جال میں نہ پہنچا سکے۔

کوچ کی نظر میں ایسٹاکیو حقیقی رہنما

جیسی مارش نے کہا کہ اسٹیفن ایسٹاکیو ٹیم کے سب سے قابلِ اعتماد کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔

ان کے بقول، ’وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم بطور ٹیم کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ میچ کے اہم لمحات کو سمجھتے ہیں اور حقیقی قائد کی طرح ٹیم کی رہنمائی کرتے ہیں۔ فیصلہ کن لمحے میں انہوں نے مکمل اعتماد کے ساتھ گیند کو بہترین انداز میں کھیلا، جو ان کی پختگی اور صلاحیت کا ثبوت ہے۔‘

جنوبی افریقہ کی بھرپور مزاحمت

جنوبی افریقہ کے گول کیپر رون وین ولیمز نے میچ میں 5 شاندار کوششوں کو روکا اور اپنی ٹیم کو طویل مقابلے کا موقع فراہم کیا۔

بافانا بافانا نے مضبوط دفاع کے ساتھ کئی اچھے حملے بھی کیے، تاہم پورے میچ میں صرف ایک شاٹ ہی گول کی سمت لگا سکے۔ جنوبی افریقہ نے ٹورنامنٹ کے 4 میچوں میں مجموعی طور پر صرف 2 گول اسکور کیے۔

جنوبی افریقہ کے کوچ ہیوگو بروس نے شکست کے بعد کہا، ’ہم اس لیے ہارے کیونکہ رفتار اور جسمانی طاقت کے معاملے میں ہم اپنے حریف سے پیچھے تھے۔ یہ ایک مشکل میچ تھا، لیکن مجموعی طور پر ٹورنامنٹ میں اپنی کارکردگی پر ہمیں اطمینان ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp