وینزویلا میں آنے والے طاقتور زلزلوں کے 4 روز سے زیادہ گزرنے کے بعد بھی ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری ہے، تاہم زندہ بچ جانے والوں کے ملنے کی امیدیں مدھم پڑتی جا رہی ہیں۔
فرانسیسی اور امریکی ریسکیو ٹیموں نے اتوار کو دارالحکومت کاراکاس سے قریباً 40 کلومیٹر شمال میں واقع ساحلی قصبے میں ملبے تلے دبے ایک شخص اور اس کے کم عمر بیٹے کو زندہ نکال لیا۔ یہ کامیابی اس بڑے سانحے کے دوران امید کی ایک کرن ثابت ہوئی، تاہم ہزاروں افراد اب بھی لاپتا ہیں جبکہ ملبے تلے دبے افراد کو زندہ نکالنے کے لیے انتہائی اہم سمجھے جانے والے ابتدائی 72 گھنٹے گزر چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: وینزویلا زلزلے سے فٹبالر لوکاس تریجو کا ہنستا کھیلتا خاندان اجڑ گیا، اہلیہ اور2 معصوم بچے جاں بحق
لاکھوں افراد بنیادی سہولیات سے محروم
لاطینی امریکا کی حالیہ تاریخ کی بدترین قدرتی آفات میں شمار ہونے والے اس سانحے کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لاکھوں افراد پینے کے صاف پانی، صفائی، رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات سے محروم ہو سکتے ہیں۔
774 عمارتیں شدید متاثر، 189 مکمل طور پر منہدم
وینزویلا کی قومی اسمبلی کے صدر جارج روڈریگز نے بتایا کہ بدھ کی شام آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے مسلسل 2 زلزلوں سے 774 عمارتیں شدید متاثر ہوئیں، جن میں سے 189 مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی ہیں۔
’ہم امید کے ساتھ ملبے میں داخل ہوئے، مگر لاشیں ملیں‘
ریسکیو کارروائیوں میں حصہ لینے والے 27 سالہ اہلکار نے بتایا کہ سب سے تکلیف دہ لمحہ وہ تھا جب وہ سرنگوں میں رینگتے ہوئے ملبہ ہٹاتے اور پوری امید کے ساتھ متاثرین تک پہنچتے، مگر وہاں زندہ انسانوں کے بجائے صرف لاشیں ملتیں۔
ماہرین کے مطابق قدرتی آفات کے بعد ابتدائی 72 گھنٹے زندہ افراد کو بچانے کے لیے فیصلہ کن ہوتے ہیں، اس کے بعد تلاش کا عمل عموماً لاشیں نکالنے تک محدود ہوتا ہے۔
کاراکاس میں رضاکاروں کی بھرپور امدادی سرگرمیاں
دارالحکومت کے سان برنارڈینو علاقے میں رضاکار منہدم عمارتوں پر چڑھ کر ڈرل مشینوں کے ذریعے کنکریٹ توڑ رہے ہیں اور انسانی زنجیر بنا کر ہاتھوں سے ملبہ ہٹا رہے ہیں۔
جارج روڈریگز نے اتوار کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1450 ہو چکی ہے جبکہ 3150 سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔ ان کے مطابق اموات میں مزید اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
حکومتی ردعمل پر عوامی غصہ، لوٹ مار کے واقعات بھی رپورٹ
امدادی کارروائیاں جاری رہنے کے باوجود کئی علاقوں میں حکومتی اقدامات پر عوامی غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔
عارضی کیمپ قائم، نئے گھروں کی منصوبہ بندی شروع
وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے بتایا کہ بے گھر ہونے والے افراد کے لیے عارضی کیمپ قائم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ایسے منصوبوں پر بھی کام شروع کر دیا گیا ہے جن کے ذریعے متاثرین کے لیے کم سے کم وقت میں نئے مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔
ریسکیو کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
ڈیلسی روڈریگز نے امدادی کارکنوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اب تک کئی افراد کو زندہ نکالا جا چکا ہے، اسی لیے ریسکیو آپریشن کسی صورت معطل نہیں کیا جائے گا۔
24 ممالک کی امداد، امریکی فوج بھی سرگرم
حکام کے مطابق اب تک 24 ممالک وینزویلا کو 521 ٹن امدادی سامان بھیج چکے ہیں۔ اس کے علاوہ 86 تربیت یافتہ ریسکیو ڈاگ یونٹس اور 2700 سے زیادہ سرچ اینڈ ریسکیو اہلکار بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
امریکی ہیلی کاپٹر امدادی سامان متاثرہ علاقوں تک پہنچا رہے ہیں جبکہ مزید 230 امریکی فوجی اہلکار ہوائی اڈے کی استعداد بڑھانے اور ایک اہم بندرگاہ کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔
امریکا، جس نے رواں سال جنوری میں کاراکاس میں فوجی کارروائی کے دوران سابق صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا تھا، اس سے قبل بھی 250 رکنی ڈیزاسٹر رسپانس ٹیم وینزویلا بھیج چکا ہے۔
67 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہونے کا خدشہ
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق آبادی اور نقصانات کے ابتدائی تخمینوں کی بنیاد پر قریباً 67 لاکھ 60 ہزار افراد اس سانحے سے متاثر ہو سکتے ہیں، جنہیں رہائش، صاف پانی، صفائی، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی امدادی اشیا کی ضرورت ہوگی۔
مزید پڑھیں: وینزویلا کے بعد فلپائن میں بھی شدید زلزلہ، زمین لرز اٹھی
ایک صدی سے زائد عرصے میں آنے والے وینزویلا کے بدترین زلزلے ایسے وقت میں آئے ہیں جب تیل سے مالا مال ملک ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے معاشی بحران کا شکار ہے۔
اس معاشی بدحالی نے اسپتالوں اور عوامی خدمات کے نظام کو شدید متاثر کیا جبکہ لاکھوں شہری ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔














