لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ صرف واٹس ایپ گروپ بنانے یا اس کی انتظامیہ کا حصہ ہونے سے کسی بھی شخص کو گروپ کے دیگر ارکان کی جانب سے کی جانے والی پوسٹس کا خود بخود مجرمانہ طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ عدالت نے تاہم ایک توہینِ مذہب کیس میں ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت مسترد کر دی۔
یہ فیصلہ جسٹس طارق سلیم شیخ نے سنایا، جس میں ایک ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ ملزم پر الزام تھا کہ اس نے واٹس ایپ گروپس کے ذریعے توہین آمیز مواد اپ لوڈ اور شیئر کیا۔
کیس ایف آئی اے کے سابق سائبر کرائم ونگ کی جانب سے درج کیا گیا تھا، جس میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 295-A، 295-B، 295-C، 298-A اور دفعہ 109 (شہ دینے یا معاونت) کے ساتھ ساتھ پیکا ایکٹ کی دفعہ 11 بھی شامل تھی۔
استغاثہ کے مطابق ملزم 2 واٹس ایپ گروپس کا رکن تھا جہاں مبینہ طور پر توہین آمیز مواد شیئر کیا گیا، جس پر اس نے بعض پوسٹس کے اسکرین شاٹس لے کر ایف آئی اے سے رجوع کیا، جس کے بعد انکوائری شروع ہوئی۔ بعد ازاں ادارے نے الزام عائد کیا کہ ملزم خود بھی اس مواد کی اپ لوڈنگ اور ترسیل میں ملوث تھا۔
دوسری جانب دفاعی وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کو غلط طور پر مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے اور محض کسی گروپ کی رکنیت یا موبائل فون کی برآمدگی اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس نے متنازع مواد اپ لوڈ یا شیئر کیا۔
یہ بھی پڑھیے شادی کے وقت کیے گئے وعدے بھی قانونی طور پر لازم، لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
وکیل نے ایف آئی اے کی تکنیکی رپورٹ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ موبائل فون کی برآمدگی اور فرانزک رپورٹ کی تیاری کے درمیان طویل وقفہ ہے، جس سے شواہد کی محفوظی پر شکوک پیدا ہوتے ہیں۔
ایف آئی اے نے موقف اختیار کیا کہ معاملہ صرف گروپ کی رکنیت تک محدود نہیں بلکہ تکنیکی تجزیے کے ذریعے ملزم کو مبینہ طور پر مواد کی ترسیل سے جوڑا گیا ہے۔
عدالت نے پیکا قانون کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ کسی بھی فرد کو اس وقت تک ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ اس نے جان بوجھ کر الیکٹرانک ذرائع سے نفرت انگیز یا قابلِ اعتراض مواد تیار یا پھیلایا۔
عدالت نے واضح کیا کہ واٹس ایپ گروپ کا ایڈمن ہونا بھی خود بخود مجرمانہ ذمہ داری پیدا نہیں کرتا، البتہ اگر گروپ کسی غیر قانونی مقصد کے لیے بنایا گیا ہو یا ایڈمن خود اس مواد کی ترسیل میں شامل ہو تو ذمہ داری عائد ہو سکتی ہے۔
فیصلے میں عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ فرانزک رپورٹ میں موبائل فون کو محفوظ چین آف کسٹڈی کے تحت حاصل کیا گیا تھا، اس لیے محض تاخیر کو شواہد میں ہیرا پھیری کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیے طلاق کے بعد 90 دن تک نکاح برقرار، لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ کی بنیاد پر ملزم کے خلاف بظاہر کافی شواہد موجود ہیں، اس لیے ضمانت کی درخواست مسترد کی جاتی ہے، تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ مشاہدات عبوری نوعیت کے ہیں اور ٹرائل کورٹ آزادانہ طور پر حتمی فیصلہ کرے گی۔














