واٹس ایپ گروپ ایڈمن ہر پوسٹ کا ذمہ دار نہیں، لاہور ہائیکورٹ کا اہم ترین فیصلہ

جمعرات 2 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ صرف واٹس ایپ گروپ بنانے یا اس کی انتظامیہ کا حصہ ہونے سے کسی بھی شخص کو گروپ کے دیگر ارکان کی جانب سے کی جانے والی پوسٹس کا خود بخود مجرمانہ طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ عدالت نے تاہم ایک توہینِ مذہب کیس میں ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت مسترد کر دی۔

یہ فیصلہ جسٹس طارق سلیم شیخ نے سنایا، جس میں ایک ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ ملزم پر الزام تھا کہ اس نے واٹس ایپ گروپس کے ذریعے توہین آمیز مواد اپ لوڈ اور شیئر کیا۔

کیس ایف آئی اے کے سابق سائبر کرائم ونگ کی جانب سے درج کیا گیا تھا، جس میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 295-A، 295-B، 295-C، 298-A اور دفعہ 109 (شہ دینے یا معاونت) کے ساتھ ساتھ پیکا ایکٹ کی دفعہ 11 بھی شامل تھی۔

استغاثہ کے مطابق ملزم 2 واٹس ایپ گروپس کا رکن تھا جہاں مبینہ طور پر توہین آمیز مواد شیئر کیا گیا، جس پر اس نے بعض پوسٹس کے اسکرین شاٹس لے کر ایف آئی اے سے رجوع کیا، جس کے بعد انکوائری شروع ہوئی۔ بعد ازاں ادارے نے الزام عائد کیا کہ ملزم خود بھی اس مواد کی اپ لوڈنگ اور ترسیل میں ملوث تھا۔

دوسری جانب دفاعی وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کو غلط طور پر مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے اور محض کسی گروپ کی رکنیت یا موبائل فون کی برآمدگی اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس نے متنازع مواد اپ لوڈ یا شیئر کیا۔

یہ بھی پڑھیے شادی کے وقت کیے گئے وعدے بھی قانونی طور پر لازم، لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

وکیل نے ایف آئی اے کی تکنیکی رپورٹ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ موبائل فون کی برآمدگی اور فرانزک رپورٹ کی تیاری کے درمیان طویل وقفہ ہے، جس سے شواہد کی محفوظی پر شکوک پیدا ہوتے ہیں۔

ایف آئی اے نے موقف اختیار کیا کہ معاملہ صرف گروپ کی رکنیت تک محدود نہیں بلکہ تکنیکی تجزیے کے ذریعے ملزم کو مبینہ طور پر مواد کی ترسیل سے جوڑا گیا ہے۔

عدالت نے پیکا قانون کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ کسی بھی فرد کو اس وقت تک ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ اس نے جان بوجھ کر الیکٹرانک ذرائع سے نفرت انگیز یا قابلِ اعتراض مواد تیار یا پھیلایا۔

عدالت نے واضح کیا کہ واٹس ایپ گروپ کا ایڈمن ہونا بھی خود بخود مجرمانہ ذمہ داری پیدا نہیں کرتا، البتہ اگر گروپ کسی غیر قانونی مقصد کے لیے بنایا گیا ہو یا ایڈمن خود اس مواد کی ترسیل میں شامل ہو تو ذمہ داری عائد ہو سکتی ہے۔

فیصلے میں عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ فرانزک رپورٹ میں موبائل فون کو محفوظ چین آف کسٹڈی کے تحت حاصل کیا گیا تھا، اس لیے محض تاخیر کو شواہد میں ہیرا پھیری کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیے طلاق کے بعد 90 دن تک نکاح برقرار، لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ کی بنیاد پر ملزم کے خلاف بظاہر کافی شواہد موجود ہیں، اس لیے ضمانت کی درخواست مسترد کی جاتی ہے، تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ مشاہدات عبوری نوعیت کے ہیں اور ٹرائل کورٹ آزادانہ طور پر حتمی فیصلہ کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp