آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے مالی سال 2026 کے اختتام پر سیمنٹ کی صنعت کے سالانہ اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جس کے مطابق ملک میں تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی کے باعث سیمنٹ کی مجموعی کھپت میں 7.21 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ختم ہونے والے مالی سال 2026 کے دوران سیمنٹ کی مجموعی فروخت کا حجم 5 کروڑ 5 لاکھ 15 ہزار ٹن تک پہنچ گیا ہے، جو ملکی معیشت اور تعمیراتی شعبے کے لیے ایک مثبت اشاریہ ہے۔
مقامی مارکیٹ میں تاریخی اضافہ، برآمدات میں معمولی کمی
رپورٹ کے تفصیلی اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 میں سیمنٹ کی مقامی کھپت میں 9.5 فیصد کا زبردست اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد ملکی سطح پر سیمنٹ کی فروخت کا حجم 4 کروڑ 15 لاکھ ٹن رہا۔
یہ بھی پڑھیں:سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش
تاہم مقامی مارکیٹ کے برعکس اسی عرصے کے دوران سیمنٹ کی برآمدات (ایکسپورٹ) میں 2.19 فیصد کی معمولی کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد مجموعی برآمدات کم ہو کر 90 لاکھ 8 ہزار ٹن کی سطح پر بند ہوئیں۔
جون 2026 کے ماہانہ اشاریے، فروخت میں ریکارڈ تیزی
اگر صرف جون 2026 کے ماہانہ اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ماہانہ بنیادوں پر سیمنٹ کی مجموعی فروخت میں 18.36 فیصد کا شاندار اضافہ ہوا اور یہ 43 لاکھ 31 ہزار ٹن رہی۔
جون کے مہینے میں مقامی فروخت نے زبردست کارکردگی دکھائی اور یہ 27 فیصد اضافے کے ساتھ 35 لاکھ 41 ہزار ٹن تک پہنچ گئی۔
دوسری جانب جون کے مہینے میں بھی برآمدات پر دباؤ برقرار رہا اور اس میں 8.73 فیصد کی کمی دیکھی گئی، جون 2026 میں سیمنٹ کی برآمدات 7 لاکھ 89 ہزار 840 ٹن رہیں، جبکہ گزشتہ برس جون 2025 میں یہ حجم 8 لاکھ 65 ہزار 387 ٹن ریکارڈ کیا گیا تھا۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور صنعت کے مستقبل کا لائحہ عمل
آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے صنعت کے مستقبل کے حوالے سے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آئندہ مہینوں میں ملکی اور عالمی منڈیوں میں سیمنٹ کی طلب مستحکم رہنے کی قوی توقع ہے۔‘
مزید پڑھیں:بلوچستان فائنانس ایکٹ 2020 آئینی قرار، اٹک سیمنٹ کی درخواست مسترد
ایسوسی ایشن نے عالمی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ’مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی کے پرامن حل سے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں مستحکم ہوں گی، جس سے پاکستان کی سیمنٹ صنعت کو سستی اور مسابقتی توانائی فراہم ہو سکے گی اور اس کے نتیجے میں پیداواری لاگت کم کر کے صنعت کو مزید فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔‘













