سنگاپور کے سائنسدانوں نے ایک منفرد اور حیران کن تحقیق میں ایسے خصوصی ڈائیونگ سوٹ تیار کر لیے ہیں جو کاکروچز کو طویل عرصے تک پانی کے اندر زندہ رہنے اور کام کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا میں کاکروچز کی غیر قانونی بریڈنگ کا بڑا انکشاف، لاکھوں ڈالر مالیت کے نایاب کیڑے برآمد
سنگاپور کی نین یانگ ٹیکنالیکل یونیورسٹی کے اسکول آف مکینیکل اینڈ ایرو اسپیس انجینیئرنگ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ہیروتاکا ساتو اور ان کی ٹیم نے یہ تحقیق کی ہے جس کا مقصد مستقبل میں تلاش و بچاؤ کی کارروائیوں اور دیگر سائنسی مشنز میں سائبرگ کیڑوں کا استعمال ممکن بنانا ہے۔
محققین اس سے قبل یہ ثابت کر چکے تھے کہ مڈغاسکر ہسنگ کاکروچ (ایک بڑی نسل کے سیٹی نما آواز نکالنے والے کاکروچ) کو اس کے حسی اعضا میں الیکٹروڈز نصب کر کے دور سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے جس کے بعد انہیں آفات سے متاثرہ علاقوں میں زندہ افراد کی تلاش جیسے کاموں کے لیے استعمال کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔
تاہم ایک بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ یہ کاکروچ پانی میں مؤثر طریقے سے کام نہیں کر سکتے تھے جس کی وجہ سے سیلاب زدہ علاقوں میں ان کی افادیت محدود ہو جاتی تھی۔
اس مسئلے کے حل کے لیے سائنسدانوں نے تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک خصوصی ریزن ڈائیونگ سوٹ تیار کیا جو کیمیائی عمل کے ذریعے آکسیجن پیدا کرتا ہے اور اسے کاکروچ کے تنفسی سوراخوں تک پہنچاتا ہے۔ اس نظام کی بدولت کاکروچ تقریباً تین گھنٹے تک پانی کے اندر متحرک رہ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: رعب و دبدبے سے بے پرواہ مخلوق کاکروچ آخر چاہتے کیا ہیں؟;
تحقیق کے مطابق اس ڈائیونگ سوٹ میں روایتی آکسیجن ٹینک استعمال نہیں کیا گیا بلکہ ہائیڈروجن پرآکسائیڈ اور مینگنیز ڈائی آکسائیڈ کے امتزاج سے آکسیجن پیدا کی جاتی ہے جسے کاکروچ آسانی سے جذب کر سکتا ہے۔
آزمائشی مراحل میں یہ ڈائیونگ سوٹ انتہائی مؤثر ثابت ہوا اور کاکروچ پانی کے اندر تقریباً 78.4 ملی میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے حرکت کرنے میں کامیاب رہے جو خشکی پر ان کی اوسط رفتار سے صرف تقریباً 10 ملی میٹر کم ہے۔
پروفیسر ہیروتاکا ساتو نے حال ہی میں سائنسی جریدے نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا کہ پانی کے اندر حرکت کرنے کی صلاحیت سائبرگ کیڑوں کو سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز میں مزید مؤثر بنا سکتی ہے۔
محققین کے مطابق ان کی ٹیم کی جانب سے تیار کیے گئے سائبرگ کیڑوں نے 2025 میں میانمار میں آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے کے بعد ہونے والے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن ’آپریشن لائن ہارٹ‘ میں بھی کردار ادا کیا تھا۔
مزید پڑھیں: روس میں 4 کروڑ سال پرانے کاکروچ کی دریافت
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان کا حتمی مقصد ان خصوصی ڈائیونگ سوٹ سے لیس کیڑوں کو مستقبل میں مریخ کی سطح کی تحقیق اور دیگر خلائی مشنز میں استعمال کرنا ہے۔














