وفاقی حکومت نے پانی، بجلی اور گیس کی طرح اب انٹرنیٹ کو بھی شہریوں کی بنیادی سروس قرار دینے پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے، جس کے لیے وزارت آئی ٹی نے اپنا قانونی جائزہ بھی مکمل کرلیا ہے۔
سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کو جمع کرائی گئی وزارت آئی ٹی کی تحریری رپورٹ کے مطابق، موجودہ آئین میں انٹرنیٹ تک رسائی کو الگ سے کوئی آئینی حق تسلیم نہیں کیا گیا اور نہ ہی فی الحال ایسا کوئی قانون موجود ہے، اس لیے انٹرنیٹ کو بنیادی سروس کا درجہ دینے کے لیے نئی قانون سازی یا مروجہ قوانین میں ترامیم کرنا ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: آج انٹرنیٹ بند ہوگا یا نہیں پہلے آپس میں فیصلہ کرلیں، نادرا اور پی ٹی اے کے متضاد بیانات پر عوام پریشان
وزارت آئی ٹی کا مؤقف ہے کہ انٹرنیٹ اب محض ایک سہولت نہیں بلکہ قومی انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل معیشت کی مضبوط بنیاد بن چکا ہے۔
انٹرنیٹ کی بندش سے ملکی معیشت، بینکاری، تعلیم اور صحت کا نظام شدید متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے، جبکہ اسے بنیادی سروس قرار دینے سے ای گورننس، ای کامرس اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کو مستقل تحفظ مل سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سسٹم میں عارضی بینڈوتھ کا اضافہ، اب انٹرنیٹ سروسز متاثر نہیں ہوں گی، پی ٹی اے
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کو بنیادی اور لازمی سروس بنانے کے لیے وزارت قانون، داخلہ، دفاع، پی ٹی اے اور تمام ٹیلی کام کمپنیوں سے مشاورت انتہائی ضروری ہوگی۔ اگر یہ اہم فیصلہ ہو جاتا ہے تو ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے بیک اپ نیٹ ورک، ڈیزاسٹر ریکوری اور سروس کے کم از کم معیار کو یقینی بنانا لازمی ہوگا۔
اس کے ساتھ ہی، اس اقدام کے بعد ملک کے ٹیلی کام شعبے میں مزید سرمایہ کاری اور سائبر سیکیورٹی کے سخت اقدامات بھی ناگزیر ہو جائیں گے۔














