استحکام پاکستان پارٹی کی آزاد کشمیر کی سیاست میں انٹری کے بعد ہلچل، کس جماعت کو نقصان پہنچے گا؟

ہفتہ 4 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) نے آزاد کشمیر کی سیاست میں باقاعدہ قدم رکھ دیا ہے، اور آئندہ عام انتخابات کے لیے اپنے امیدوار میدان میں اتار دیے ہیں۔

آئی پی پی کی آزاد کشمیر کی سیاست میں انٹری کے بعد سیاسی صورت حال یکسر تبدیل ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ

اس سے قبل آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان مقابلہ ہونا تھا، تاہم اب استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو مختلف حلقوں میں نقصان پہنچائیں گے۔

ریاست میں 27 جولائی 2026 کو عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں، جس کے لیے بھرپور تیاریاں جاری ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ دیگر جماعتوں نے بھی اپنی حکمت عملی طے کر لی ہے۔

کچھ روز قبل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت لاہور میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے ٹکٹ ہولڈرز کا ایک اجلاس ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز سمیت دیگر سینئر رہنما انتخابی مہم سے خطاب کریں گے۔

آزاد کشمیر کے آئندہ عام انتخابات میں مہم چلانے کے لیے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کو کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مہاجرینِ مقیم پاکستان کے حلقوں میں یہ ذمے داری خواجہ سعد رفیق کو دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تنویر الیاس اہم شخصیات سمیت استحکام پاکستان پارٹی میں شامل، آزاد کشمیر کی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کی استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کے بعد اہم سیاسی رہنما بھی ان کے ساتھ اس جماعت کا حصہ بن گئے ہیں۔

سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس نے پاکستان پیپلز پارٹی سے مستعفی ہو کر استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔

سردار تنویر الیاس آزاد کشمیر کے عام انتخابات میں 3 حلقوں سے الیکشن میں حصہ لینے کے خواہش مند تھے، تاہم پارٹی نے صرف ایک ٹکٹ پر رضامندی ظاہر کی، جس کے باعث انہوں نے پیپلز پارٹی کو خیرباد کہہ دیا۔

واضح رہے کہ سردار تنویر الیاس 2022 سے 2023 تک آزاد کشمیر کے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ انہیں ایک عدالتی فیصلے کی صورت میں نااہلی کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد چوہدری انوارالحق نے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا تھا۔

تنویر الیاس نے 2021 میں اپنے سیاسی سفر کا آغاز پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے کیا۔ 2023 میں وزارتِ عظمیٰ سے نااہلی کے بعد پی ٹی آئی کو خیرباد کہا اور مرکز میں آئی پی پی کے قیام کے وقت آزاد کشمیر چیپٹر کے صدر بن گئے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں حکومت میں آئے تو عوام کی محرومیاں دور کریں گے، عبدالعلیم خان

بعد ازاں انہوں نے 2025 میں پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی، لیکن ٹکٹوں کی تقسیم کے موقع پر اختلافات کے باعث وہاں بھی زیادہ دیر نہ رہ سکے اور مستعفی ہو کر دوبارہ استحکام پاکستان پارٹی کا حصہ بن گئے۔

اقتدار میں آ کر محرومیوں کا ازالہ کریں گے، عبدالعلیم خان

استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی صدر عبدالعلیم خان نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے موقع دیا تو اقتدار میں آ کر محرومیوں کا ازالہ کریں گے۔

مری سے مظفرآباد تک ایکسپریس وے کا اعلان

گزشتہ روز بحیثیت وفاقی وزیر مواصلات ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے عبدالعلیم خان نے مری سے مظفرآباد تک ایکسپریس وے بنانے کا بھی اعلان کیا۔

آزاد کشمیر میں حکومت بنانے جا رہے ہیں، تنویر الیاس کا دعویٰ

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس نے استحکام پاکستان پارٹی کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آزاد کشمیر میں حکومت بنانے جا رہے ہیں، عوام کے مسائل حل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم نے بجلی 3 روپے فی یونٹ دینے کا غیر حقیقی معاہدہ کیا، جو قابلِ عمل نہیں، لیکن اگر کل یہ فیصلہ واپس لیا جاتا تو اس سے بھی مسائل پیدا ہوں گے۔

تنویر الیاس آئندہ الیکشن میں پیپلز پارٹی کو نقصان پہنچائیں گے، عامر محبوب

آزاد کشمیر کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافی عامر محبوب کا کہنا ہے کہ تنویر الیاس آزاد کشمیر کے آئندہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کو نقصان پہنچائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کئی ایسے ٹکٹ ہولڈرز، جو جیتنے کی پوزیشن میں تھے، تنویر الیاس کے فیصلے کے بعد اب ان کی پوزیشن کمزور ہوگئی ہے۔

عامر محبوب کے مطابق استحکام پاکستان پارٹی کی آزاد کشمیر میں انٹری کا مسلم لیگ (ن) کو فائدہ پہنچے گا۔

پیپلز پارٹی کو وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے کی قیمت چکانا پڑے گی، جاوید اقبال ہاشمی

سینئر صحافی جاوید اقبال ہاشمی بھی عامر محبوب کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں کہ تنویر الیاس کے فیصلے کا آئندہ عام انتخابات میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان پیپلز پارٹی کو ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کی حالیہ صورت حال میں بھی وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے کی کوشش کی ہے اور اس کی قیمت بھی انہیں آئندہ عام انتخابات میں چکانا پڑے گی۔

آئی پی پی کی شمولیت نے کئی انتخابی حلقوں میں صورت حال کو دلچسپ بنا دیا، خواجہ اے متین

سینئر صحافی و ماہرِ امورِ کشمیر خواجہ اے متین کا بھی ماننا ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی کے انتخابات میں حصہ لینے کا سب سے زیادہ فائدہ مسلم لیگ (ن) کو ہوگا، جبکہ نقصان پیپلز پارٹی کو اٹھانا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے کئی انتخابی حلقوں میں اب صورت حال دلچسپ ہوگئی ہے۔ کئی ایسے حلقے، جہاں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان ون ٹو ون مقابلہ تھا، آئی پی پی کی شمولیت نے وہاں کا سیاسی نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے حلقہ ایل اے 15 وسطی باغ میں اب مقابلہ بہت دلچسپ ہوگیا ہے، جہاں سے تنویر الیاس آئی پی پی، سردار ضیا القمر پیپلز پارٹی، مشتاق منہاس مسلم لیگ (ن) اور بریگیڈیئر (ر) محمد خان جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp