5 سال میں چوتھا سیاسی پڑاؤ: آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کے سیاسی سفر پر ایک نظر

ہفتہ 4 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد کشمیر کی سیاست میں عام انتخابات سے قبل ایک اور اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس نے پاکستان پیپلز پارٹی سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے ایک بار پھر استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلافات کے بعد ان کا یہ فیصلہ آزاد کشمیر کی انتخابی سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے جس کے ممکنہ اثرات آئندہ انتخابی منظرنامے پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ

سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس گزشتہ 5 سال کے دوران تیسری بار اپنا سیاسی قبلہ بدل چکے ہیں۔

تنویر الیاس نے سنہ 2021 کے عام انتخابات سے قبل سیاسی میدان میں قدم رکھا اور پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرکے عام انتخابات میں حصہ لیا۔

انہوں نے سنہ 2021 میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے حلقہ ایل اے 15 وسطی باغ سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا اور کامیاب ہوئے۔ بعد ازاں اسی سیاسی پلیٹ فارم سے اپریل 2022 میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔

اپریل 2023 میں عدالتی فیصلے کے بعد سردار تنویر الیاس نااہل قرار پائے جس کے بعد وہ وزارت عظمیٰ سے بھی محروم ہوگئے۔ ان کی نااہلی کے بعد ایل اے 15 وسطی باغ کی نشست خالی ہوئی اور ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کے سردار ضیاء القمر کامیاب ہوئے۔

سردار تنویر الیاس نے پاکستان تحریک انصاف سے علیحدگی کے موقع پر بانی پی ٹی آئی عمران خان پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے۔

مزید پڑھیے: ڈپلومیٹک پاسپورٹ کا غلط استعمال، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری

ان کی پی ٹی آئی سے علیحدگی کے بعد جب پاکستان میں استحکام پاکستان پارٹی قائم ہوئی تو سردار تنویر الیاس کو آزاد کشمیر چیپٹر کا صدر بنایا گیا۔ یہ ان کے سیاسی سفر کا دوسرا اہم موڑ تھا تاہم وہ اس سیاسی اتحاد کا بھی زیادہ عرصہ حصہ نہ رہ سکے۔

بعد ازاں انہوں نے استحکام پاکستان پارٹی سے بھی استعفیٰ دے دیا اور سنہ 2025 میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔

سابق وزیراعظم کی پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کے بعد یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات میں سردار تنویر الیاس اہم کردار ادا کریں گے مگر پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم نے صورتحال تبدیل کردی۔

سردار تنویر الیاس حالیہ عام انتخابات میں 3 حلقوں سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ کے خواہشمند تھے تاہم پارٹی قیادت کی جانب سے انہیں مطلوبہ ٹکٹ نہ مل سکے۔

مزید پڑھیں: تنویر الیاس اہم شخصیات سمیت استحکام پاکستان پارٹی میں شامل، آزاد کشمیر کی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

انہوں نے ایل اے 15 وسطی باغ، ایل اے 22 پونچھ 5 اور ایل اے 25 نیلم سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے تھے جبکہ پیپلز پارٹی قیادت انہیں صرف ایل اے 25 نیلم سے ٹکٹ دینے پر راضی ہوئی۔

ٹکٹوں پر اختلافات شدت اختیار کرنے کے بعد سردار تنویر الیاس نے پیپلز پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ بعد ازاں پارٹی کے سینیئر رہنماؤں نے انہیں فیصلے پر نظرثانی کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی مگر وہ اپنے فیصلے پر قائم رہے۔

پیپلز پارٹی سے استعفے کے سردار تنویر الیاس اہم سیاسی شخصیات سمیت استحکام پاکستان پارٹی میں دوبارہ شامل ہو گئے ہیں۔

انہوں نے اسلام آباد میں پارٹی صدر عبدالعلیم خان سے ملاقات کی اور اہم شخصیات کے ہمراہ پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ ان کے ساتھ وزیر حکومت علی شان سونی اور نثار انصر ابدالی بھی استحکام پاکستان پارٹی کا حصہ بنے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق سردار تنویر الیاس ضدی سیاستدان ہیں اور ان کی طبیعت میں ٹھہراؤ نہیں تاہم ان کے حالیہ سیاسی فیصلے کا پیپلز پارٹی کو نقصان پہنچے گا۔

یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر: عام انتخابات سے قبل سیاسی جوڑ توڑ، تنویر الیاس پیپلز پارٹی کی بنیادی رکنیت سے مستعفی

یوں سردار تنویر الیاس کا سیاسی سفر سنہ 2021 میں پی ٹی آئی سے شروع ہوا پھر وزارت عظمیٰ، نااہلی، آئی پی پی، پیپلز پارٹی اور اب دوبارہ استحکام پاکستان پارٹی تک پہنچ چکا ہے۔

عام انتخابات سے قبل ان کی سردار تنویر الیاس کی سیاسی واپسی نہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے ایک دھچکا سمجھی جا رہی ہے بلکہ یہ آزاد کشمیر کی انتخابی سیاست میں ایک نئے موڑ کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp