پاکستان نے باسمتی چاول کے حوالے سے اہم سفارتی اور تجارتی کامیابی حاصل کرتے ہوئے مئی 2026 میں ترکیہ سے باسمتی چاول کے لیے جغرافیائی شناخت (جی آئی) حاصل کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: گیمبیا کو پاکستانی چاول برآمد کرنے کے لیے حکومتی سطح پر معاہدہ متوقع
میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ کامیابی ایسے وقت میں ملی جب بھارت نے اپریل 2023 میں ترک پیٹنٹ آفس میں درخواست جمع کرا کے باسمتی چاول پر خصوصی حق حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، حالانکہ یہ زرعی پیداوار پاکستان کے جغرافیائی خطے سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔
پاکستان نے اس معاملے پر بروقت قانونی اور سفارتی اقدامات کیے۔ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) نے قانونی ماہرین کی خدمات حاصل کیں، برآمد کنندگان کو متحرک کیا اور ترکیہ کے لیے مختص 18 ہزار ٹن ٹیرف ریٹ کوٹہ (ٹی آر کیو) سے بھی مؤثر انداز میں فائدہ اٹھایا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کو عالمی مارکیٹ میں شکست، باسمتی چاول پاکستانی پراڈکٹ قرار
ان اقدامات کے نتیجے میں ترکیہ کے معروف ریٹیلر ایم ایس اے-101 کی جانب سے پاکستانی باسمتی چاول کے ابتدائی آرڈرز موصول ہوئے، جبکہ دارالحکومت انقرہ میں پاکستانی باسمتی کی تشہیری سرگرمیاں بھی منعقد کی گئیں۔














