ترکیہ میں پاکستانی باسمتی چاول کو جغرافیائی شناخت مل گئی، بھارت کی اجارہ داری کی کوشش ناکام

جمعہ 3 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 پاکستان نے باسمتی چاول کے حوالے سے اہم سفارتی اور تجارتی کامیابی حاصل کرتے ہوئے مئی 2026 میں ترکیہ سے باسمتی چاول کے لیے جغرافیائی شناخت (جی آئی) حاصل کرلی۔

یہ بھی پڑھیں: گیمبیا کو پاکستانی چاول برآمد کرنے کے لیے حکومتی سطح پر معاہدہ متوقع

میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ کامیابی ایسے وقت میں ملی جب بھارت نے اپریل 2023 میں ترک پیٹنٹ آفس میں درخواست جمع کرا کے باسمتی چاول پر خصوصی حق حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، حالانکہ یہ زرعی پیداوار پاکستان کے جغرافیائی خطے سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔

پاکستان نے اس معاملے پر بروقت قانونی اور سفارتی اقدامات کیے۔ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) نے قانونی ماہرین کی خدمات حاصل کیں، برآمد کنندگان کو متحرک کیا اور ترکیہ کے لیے مختص 18 ہزار ٹن ٹیرف ریٹ کوٹہ (ٹی آر کیو) سے بھی مؤثر انداز میں فائدہ اٹھایا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کو عالمی مارکیٹ میں شکست، باسمتی چاول پاکستانی پراڈکٹ قرار

ان اقدامات کے نتیجے میں ترکیہ کے معروف ریٹیلر ایم ایس اے-101 کی جانب سے پاکستانی باسمتی چاول کے ابتدائی آرڈرز موصول ہوئے، جبکہ دارالحکومت انقرہ میں پاکستانی باسمتی کی تشہیری سرگرمیاں بھی منعقد کی گئیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ویمنز ٹی20 رینکنگ: سعدیہ اقبال اور نشرہ سندھو ٹاپ 10 بولرز میں شامل

امریکا میں ڈاک خدمات مہنگی، خطوط، پوسٹ کارڈز اور پارسل بھیجنے کے نئے نرخ نافذ

بھارت میں عیسائی برادری ایک بار پھر نشانے پر، چرچ پر حملہ اور توڑ پھوڑ

خواتین کو وراثت سے محروم کرنے والی قبائلی روایات غیر قانونی قرار، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

ویڈیو

خیبرپختونخوا حکومت کی اپنے لیے مراعات، نئے قانون میں خاص کیا ہے؟

خیبر پختونخوا اسمبلی ایک دہائی بعد بھی مکمل پیپر لیس کیوں نہ بن سکی؟

سرگودھا میں لاہور کی طرز پر شاندار ترقیاتی کام، شہری وزیراعلیٰ مریم نواز کی خدمات کے معترف

کالم / تجزیہ

سندھ طاس: بھارت کی اسٹریٹیجک مس کیلکولیشن

فیفا فٹبال میں چھپی صدی کی کہانی

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش